Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

رسوا اور نواکوٹ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ سیلاب نیپال اور چین کے درمیان سرحدی علاقے سے گزرنے والی بھوٹے کوشی ندی کے بالائی حصے میں برفانی تودہ گرنے کے باعث آیا۔

پاکستانی حکام کی جانب سے بی ایل ایف کے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی آفیشل ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی 28 اگست 2026 کو ازبکستان کے سرکاری دورے پر جائیں گے۔ اس کے بعد وہ 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے 26ویں سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

نیپال اور تبت کی سرحد پر 26 اگست کو آنے والے شدید اچانک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ پانی اور ملبے کے تیز بہاؤ نے سڑکوں، پلوں، عمارتوں اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ اس تباہی کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر اتنا بھیانک سیلاب آیا کیسے؟

الجزائر کے بحیرہ روم سے متصل ساحلی علاقوں میں موسم گرما کے دوران جنگلات میں آگ لگنے کا خطرہ اکثر بڑھ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں بڑھتی گرمی، خشک سالی اور تیز ہواؤں نے اس خطرے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

ہندو امریکن فاؤنڈیشن (ایچ اے ایف) نے 29 اگست کو ہونے والے ’یونیورسل ون نس سیلیبریشن‘ میں شرکت کرنے والے افراد کے لیے بدھ کے روز مقامی وقت کے مطابق ’کمیونٹی ایڈوائزری الرٹ‘ جاری کیا۔ ایچ اے ایف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ محتاط رہیں، اپنے اردگرد کی صورتحال پر نظر رکھیں اور سب کے ساتھ پرامن اور مہذب طریقے سے پیش آئیں۔

سیلاب نے نیپال کے کئی قصبوں اور دیہات کو متاثر کیا، اہم پل بہا دیے اور تقریباً ایک درجن ہائیڈرو پاور منصوبوں کو نقصان پہنچایا۔ چتوان ضلع سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں 64 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

میری مل بین بھارتی سامعین میں ’جن گن من‘ اور بھجن ’اوم جے جگدیش ہرے‘ کی پیشکش کے لیے جانی جاتی ہیں۔ وہ بھارت اور ہند نژاد امریکی برادری سے متعلق متعدد پروگراموں میں شرکت کر چکی ہیں اور عوامی طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے تئیں اپنی حمایت کا اظہار بھی کرتی رہی ہیں۔

ماہرین اس وقت سیلاب کے مختلف ممکنہ اسباب کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایک امکان برفانی تودے کا ہے، جبکہ دوسرا خدشہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث عارضی باندھ بننے کا ہے۔ آئی سی آئی ایم او ڈی کے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن ماہر شاشوت سانیال نے کہا کہ لینڈے کھولا میں 14 ماہ کے اندر دو مرتبہ سیلاب آیا ہے۔ ان کے مطابق اس بار ممکنہ طور پر برفانی تودے نے دریا کا بہاؤ روکا اور اس کے بعد پانی اچانک تیزی سے نیچے آیا، تاہم اس کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔

’دی کٹھمنڈو پوسٹ‘ کے مطابق راسوا اور اس سے ملحقہ اضلاع میں تباہ کن اچانک سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ نیپال کی حکومت نے باضابطہ طور پر قدرتی آفت سے متاثرہ اضلاع کے مختلف علاقوں کو تین ماہ کے لیے بحران زدہ علاقے قرار دے دیا ہے۔