Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ایرانی صدر نے کہا کہ آج دنیا جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے اقتصادی ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ان حالات نے ممالک کے لیے اقتصادی ماحول کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز کا جواب برکس کے پاس موجود ہے۔

دونوں لیڈروں کی یہ ملاقات بھارت اور روس کے باہمی تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ پوتن کے دورہ بھارت کی تصدیق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس بھارت کو اپنا اسٹریٹجک شراکت دار مانتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات ماسکو کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بات چیت کی معلومات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ چانسلر مرز کے ساتھ ان کی گفتگو دوستانہ اور بامعنی رہی۔ دونوں لیڈروں نے بھارت-جرمنی اسٹریٹجک شراکت داری کو آنے والے برسوں میں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا خلائی نظریہ ’وسودھیو کٹمبکم‘ یعنی ’ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘ کے جذبے پر مبنی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی قوانین، مکالمے اور کثیرالجہتی تعاون کی بنیاد پر محفوظ، پُرامن اور پائیدار خلائی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کا خلائی شعبہ ٹکراؤ کے بجائے تعاون، قلیل مدتی فائدے کے بجائے پائیداری اور اخراج کے بجائے شمولیت کے اصولوں پر آگے بڑھنا چاہیے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پرنس رحیم آغا خان کے ساتھ ملاقات کی تصاویر شیئر کیں۔ انہوں نے کہا کہ پرنس رحیم آغا خان پنجم سے ملاقات انتہائی خوشگوار رہی۔ وزیر اعظم نے ان کے والد مرحوم پرنس کریم آغا خان چہارم کی جانب سے سماجی اور ترقیاتی شعبوں میں دی گئی گراں قدر خدمات کو بھی یاد کیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر بھارت آنے والے شی جن پنگ کا یہ تقریباً 7 سال بعد پہلا بھارت دورہ ہوگا۔ ان کے دورے کو بھارت اور چین کے درمیان تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دورانِ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ کئی دیگر اہم امور پر بات چیت متوقع ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے ٹرمپ کے ساتھ جنگ کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے امکان پر بات چیت کی ہے۔رپورٹ کے مطابق، ایران امریکی دباؤ، ناکہ بندی اور دیگر فوجی اقدامات کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ تنازع جنوری 2029 میں ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام تک بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

یہ دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت پیش آیا جب صدر زیلینسکی ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے مالدووا سے اوسلو روانہ ہو رہے تھے۔ جیسے ہی ان کا خصوصی طیارہ آسمان میں بلند ہوا، ایک مشتبہ ڈرون اچانک طیارے کے انتہائی قریب آ گیا۔اگرچہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ڈرون طیارے سے کتنی دوری پر تھا، تاہم اس غیر متوقع ڈرون خطرے کے باعث زیلینسکی کی پرواز کو کئی گھنٹوں کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

بنگلہ دیش انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ڈائریکٹوریٹ (ISPR) نے بتایا کہ فوجی مشق کے دوران ٹینک سے فائرنگ کر رہے تھے۔ اسی دوران اچانک ٹینک میں زوردار دھماکا ہوا اور چاروں طرف دھواں پھیل گیا۔ حادثے کے فوراً بعد راحت اور بچاؤ کا کام شروع کردیا گیا۔

امریکی فوج نے یہ نہیں بتایا کہ ایران نے امریکی بحریہ کے کس جنگی بحری جہاز کو نشانہ بنایا تھا، حملہ کہاں ہوا اور اس میں کتنے بیلسٹک میزائل داغے گئے تھے۔ گزشتہ چار دنوں کے دوران ایرانی تیل ٹینکروں کے خلاف یہ امریکہ کی دوسری فوجی کارروائی تھی۔