Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم مودی کی شرکت کرغزستان کے ساتھ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی شراکت داری اور دونوں ملکوں کے درمیان وسیع تر ثقافتی اور عوامی روابط کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ تمام مسائل کا جلد از جلد پرامن حل وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہی ہندوستان کا پیغام بھی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’تمام مسائل کا جلد از جلد پرامن حل انسانیت کی پکار ہے اور یہی ہندوستان کا پیغام ہے۔ گاندھی کی سرزمین اور بدھ کی سرزمین ایک ہی پیغام دیتی ہیں، اور وہ ہے امن کا راستہ۔ آج میں آپ کے ساتھ ان معاملات پر بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘

ولادیمیر پوتن نے پیر کو بھارت اور روس کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی توجہ اور قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ’خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری‘ مسلسل مستحکم ہو رہی ہے۔

بشکیک میں وزیراعظم مودی کی شرکت سے ایس سی او اور وسطی ایشیائی شراکت داروں کے ساتھ بھارت کے تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم اس سال اپنے قیام کے 25 سال مکمل کر رہی ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (NDRRMA) کے مطابق پیر تک ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 903 ہو گئی، جبکہ تقریباً 4,247 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر 10,451 افراد کو بچایا جا چکا ہے۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ ملاقات میں ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سمیت کئی اعلیٰ ایرانی حکام بھی موجود تھے۔

کرغزستان کے فوجی افسر کیپٹن تالائبیک نے بتایا کہ انہوں نے بھارت کی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں تین سال اور انڈین ملٹری اکیڈمی میں ایک سال تربیت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں بننے والی دوستیاں آج بھی ان کے لیے اہم ہیں اور وہ دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

حکام نے برآمد کی گئی زیادہ تر لاشوں کو دیوگھاٹ میں دفن کیا ہے۔ دیوگھاٹ وہ مقام ہے جہاں کالی گنڈکی اور تریشولی ندیاں آپس میں ملتی ہیں۔ حکام کے مطابق لاشوں کو دفن کرنے کا مقصد ممکنہ صحت کے خطرات سے بچاؤ ہے۔ لاشوں کی تدفین سے قبل حکام نے ڈی این اے کے نمونے بھی حاصل کیے ہیں، تاکہ بعد میں نامعلوم متوفیوں کی شناخت میں مدد مل سکے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے اقتصادی دباؤ بڑھانے پر توجہ دینے کی بات کہی تھی۔ اس حکمت عملی کے تحت ان ممالک اور اداروں کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی جا رہی ہے جو تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھیں گے۔

وزیر اعظم مودی اور ازبک صدر شوکت مرزیایوف کے درمیان بات چیت میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم اور اہم معدنیات سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔