Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ایرانی فوجی ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ’’خود سے مذاکرات کر رہا ہے‘‘ اور اپنی ناکامی کو معاہدے کا نام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کے سخت مؤقف اور اپنی شرائط پر اصرار کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ تنازع فوری طور پر ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا، جبکہ عالمی توانائی اور سلامتی کی صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔

یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زائد النہیان کے مشیر انور گرگاش نے کہا کہ ملک کو اس وقت ہتھیاروں یا فوجیوں سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ مشکل وقت میں کن ممالک پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی نے اتحادیوں کی حقیقی وابستگی کو واضح کر دیا ہے۔

جاپان دنیا کے بڑے تیل ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں سرکاری اور نجی ذخائر ملا کر تقریباً 254 دن کی کھپت کے برابر تیل موجود ہے۔ اس کے باوجود ملک اپنی 90 فیصد سے زیادہ خام تیل کی ضروریات کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے موجودہ جنگی صورتحال میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی سطح پر عدم استحکام بڑھ رہا ہے، جہاں ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں جاری ہیں، وہیں ایران بھی جوابی حملے کر رہا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی اور توانائی کے نظام پر بھی گہرے اثرات ڈالے ہیں۔

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ مذاکرات کا دعویٰ کر رہا ہے، وہیں ایران اور اسرائیل اس کی تردید کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ واضح ہے کہ خطے میں کشیدگی ابھی برقرار رہے گی اور فوری طور پر کسی امن معاہدے کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔

قالیباف اپنے سخت بیانات کی وجہ سے گزشتہ چند دنوں سے خبروں میں ہیں۔ وہ ایکس کے ذریعے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ’مثبت اور تعمیری مذاکرات‘ کا ذکر کیا تو قیاس آرائیاں کی جانے لگیں کہ شاید یہ بات قالیباف کے حوالے سے کہی گئی ہے۔

آسٹریلیائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کیونکہ عالمی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس وقت 7,000 سے زائد ایرانی شہریوں کے پاس سیاحتی ویزا موجود ہے۔

پاکستان ریلوے کے ترجمان کلیم احمد نے بتایا کہ حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے، جبکہ زخمیوں کو موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

عباس کیاروستامی، جن کا انتقال 2016 میں ہوا تھا، ایران کے سب سے نمایاں فلم سازوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ انہوں نے 1997 میں اپنی فلم ’ٹیسٹ آف چیری‘ کے لیے کانز فلم فیسٹیول میں اعلیٰ اعزاز ’پالمے ڈی اور‘ حاصل کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق پاکستانی کنٹینر جہاز متحدہ عرب امارات سے کراچی کی جانب رواں دواں تھا، جب ایرانی فورسز نے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جہاز میں تقریباً 6850 ٹن سامان لدا ہوا تھا۔ ایرانی حکام کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے بعد جہاز کو واپس جانے کی ہدایت دی گئی۔ اس واقعے کے بعد پاکستانی تجارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔