Bharat Express DD Free Dish

China On Putin India Visit : روسی صدر پوتن کے بھارت دورہ کے بعد چین کی بڑھتی دلچسپی، بھارت سے ہاتھ ملانے کو تیار، کہا تینوں ممالک ’’گلوبل ساؤتھ‘‘ کے اہم ستون

بھارت کے ساتھ بڑھتی قربت اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی نئی دہلی دورہ نے چین کی دلچسپی کو نئی جہت دے دی ہے۔ بیجنگ نے نہ صرف پوتن کے حالیہ دورۂ بھارت کا مثبت انداز میں خیرمقدم کیا، بلکہ بھارت، چین اور روس کو ’’گلوبل ساؤتھ‘‘ کے تین مضبوط اور یکساں رفتار سے آگے بڑھنے والے ستون قرار دیا ہے۔ چین کے مطابق یہ تینوں ممالک عالمی سیاست اور اقتصادیات میں ابھرتی ہوئی طاقتیں ہیں جو عالمی جنوب کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بھارت کے ساتھ بڑھتی قربت اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی نئی دہلی دورہ نے چین کی دلچسپی کو نئی جہت دے دی ہے۔ بیجنگ نے نہ صرف پوتن کے حالیہ دورۂ بھارت کا مثبت انداز میں خیرمقدم کیا، بلکہ بھارت، چین اور روس کو ’’گلوبل ساؤتھ‘‘ کے تین مضبوط اور یکساں رفتار سے آگے بڑھنے والے ستون قرار دیا ہے۔ چین کے مطابق یہ تینوں ممالک عالمی سیاست اور اقتصادیات میں ابھرتی ہوئی طاقتیں ہیں جو ’’گلوبل ساؤتھ‘‘ کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چین، بھارت اور روس کے درمیان دوستانہ تعلقات نہ صرف تینوں ممالک کے مفاد میں ہیں بلکہ عالمی سطح پر امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی جنوب کے یہ بڑے ممالک اگر مشترکہ قدم اٹھائیں تو عالمی نظام میں بڑی تبدیلیاں لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بھارت–چین تعلقات میں بہتری
چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق چین ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ بھارت اور چین اپنے تعلقات کو طویل المدتی، وسیع تناظر اور اسٹریٹجک اعتماد کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ انہوں نے 2020 میں مشرقی لداخ میں پیدا ہونے والے سرحدی تناؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حالات کچھ عرصے تک سرد رہے، لیکن اب صورتحال میں واضح بہتری نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین بھارت کے ساتھ مضبوط اور مستحکم شراکت داری چاہتا ہے تاکہ نہ صرف دونوں ملکوں کے عوام کو فائدہ پہنچے بلکہ خطے میں بھی امن اور خوشحالی کے نئے امکانات پیدا ہوں۔

پوتن دورہ پر چین کی گہری نظر
چین نے پوتن کی بھارت آمد سے قبل ہی پوری صورتحال پر گہری نظر رکھی تھی۔ روس اور چین کے مضبوط تعلقات کی وجہ سے بیجنگ کے لیے یہ دورہ خصوصی اہمیت رکھتا تھا۔ بھارت دورہ سے قبل ایک انٹرویو میں پوتن نے کہا تھا کہ بھارت اور چین دونوں روس کے ’’قریبی دوست‘‘ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ماسکو بھارت–چین اختلافات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ دونوں ممالک اپنی پیچیدہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ چین کے سرکاری میڈیا نے پوتن کے یہ بیانات نمایاں طور پر شائع کیے۔

روس کے تیل معاملے پر امریکی تنقید مسترد کرنا—چین کے لیے بھی اہم
چینی میڈیا نے پوتین کی اس رائے کو بھی خصوصی جگہ دی جس میں انہوں نے بھارت کو امریکی تنقید سے بری کرتے ہوئے کہا تھا کہ روسی تیل خریدنا بھارت کا خود مختار فیصلہ ہے۔ یہ چین کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ روسی تیل اور گیس کا سب سے بڑا درآمد کنندہ خود چین ہے، جس نے یوکرین جنگ کے دوران امریکی دباؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے روسی توانائی کی خریداری جاری رکھی۔

بھارت–روس تجارتی تعاون میں نئی رفتار
پوتن 4 اور 5 دسمبر کو 2021 کے بعد پہلی بار بھارت کے دورے پر آئے تھے۔ اس دوران دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کے لیے کئی بڑے معاہدے کیے۔ نئی دہلی اور ماسکو نے 2030 تک دوطرفہ تجارت کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف طے کیا اور طویل المدتی اقتصادی تعاون کا خاکہ بھی منظور کیا۔ یہ پیش رفت بھارت، چین اور روس کے درمیان بدلتی حرکیات کو ایک نئی سمت دیتی ہے، جسے بیجنگ ’’گلوبل ساؤتھ کی مشترکہ طاقت‘‘ سے تعبیر کر رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read