Bharat Express DD Free Dish

Global South

منوہر لال کھٹر نے کہا کہ بھارت نے بجلی کی رسائی میں اضافہ، غیر حیاتیاتی ایندھن پر مبنی بجلی کی پیداواری صلاحیت میں توسیع اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ برکس ایک زیادہ متوازن اور منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل میں مرکزی ستون بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں برکس ممالک کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

صدر لولا نے بھارت آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا چھٹا بھارت دورہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی ملاقات انتہائی نتیجہ خیز رہی۔ ان کے مطابق یہ صرف گلوبل ساؤتھ کی دو بڑی جمہوریتوں کی ملاقات نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل سپر پاور اور قابلِ تجدید توانائی کی سپر پاور کے درمیان شراکت داری ہے۔

بھارت کے ساتھ بڑھتی قربت اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی نئی دہلی دورہ نے چین کی دلچسپی کو نئی جہت دے دی ہے۔ بیجنگ نے نہ صرف پوتن کے حالیہ دورۂ بھارت کا مثبت انداز میں خیرمقدم کیا، بلکہ بھارت، چین اور روس کو ’’گلوبل ساؤتھ‘‘ کے تین مضبوط اور یکساں رفتار سے آگے بڑھنے والے ستون قرار دیا ہے۔ چین کے مطابق یہ تینوں ممالک عالمی سیاست اور اقتصادیات میں ابھرتی ہوئی طاقتیں ہیں جو عالمی جنوب کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے گلوبل ساؤتھ کے لیے عالمی فیصلہ سازی میں زیادہ مؤثر آواز کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی سمٹ میں افریقی یونین کو مستقل رکن بنانا ایک تاریخی قدم تھا اور یہ شمولیتی روح جی20 سے آگے بھی بڑھائی جانی چاہیے۔

وزارت خارجہ کی اس رپورٹ میں کثیر جہتی اداروں میں اصلاحات لانے میں ہندوستان کی قیادت کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

اس عظیم ایوان سے خطاب میرے لیے اعزاز کی بات ہے، جو جمہوریت کا ایک مندر ہے۔ میں بھارت ماتا، جمہوریت کی جنم بھومی کا نمائندہ بن کر آیا ہوں اور 140 کروڑ ہندوستانیوں کی طرف سے مبارکباد لایا ہوں

وزیر اعظم نے یوروگوئے میں یوگا کی مقبولیت کو دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کے لیے ایک مثبت علامت قرار دیا۔

وزیراعظم مودی نے دیگر رہنماؤں کے ساتھ روایتی فیملی فوٹو سیشن میں بھی شرکت کی، جو برکس ممالک کے اتحاد اور باہمی تعاون کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تصویر میں برازیلی صدر لولا دا سلوا، جنوبی افریقہ کے صدر سیرل راما فوسا اور دیگر رکن ممالک کے نمائندگان کے ساتھ وزیراعظم مودی بھی موجود تھے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’بدلتے حالات میں مؤثر اور قابلِ اعتماد اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک گلوبل ساؤتھ کو اس کا حق نہ دیا جائے۔‘‘