Bharat Express DD Free Dish

China and India

پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن 2026 کے چوتھے دن لوک سبھا میں اس وقت زبردست ہنگامہ دیکھنے میں آیا جب راہل گاندھی نے ڈوکلام تنازع کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا۔ صدر جمہوریہ کے خطبے پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران راہل گاندھی نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے چین کے دباؤ میں آ کر بھارت کی ہزاروں ایکڑ زمین سرنڈر کر دی ہے۔

بھارت کے ساتھ بڑھتی قربت اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی نئی دہلی دورہ نے چین کی دلچسپی کو نئی جہت دے دی ہے۔ بیجنگ نے نہ صرف پوتن کے حالیہ دورۂ بھارت کا مثبت انداز میں خیرمقدم کیا، بلکہ بھارت، چین اور روس کو ’’گلوبل ساؤتھ‘‘ کے تین مضبوط اور یکساں رفتار سے آگے بڑھنے والے ستون قرار دیا ہے۔ چین کے مطابق یہ تینوں ممالک عالمی سیاست اور اقتصادیات میں ابھرتی ہوئی طاقتیں ہیں جو عالمی جنوب کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارا موقف واضح ہے۔ بھارت کی تیل کی خریداری مارکیٹ کے حالات اور 1.4 بلین لوگوں کی توانائی کی حفاظت کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے، یہ ٹیرف نہ صرف غیر منصفانہ ہیں، بلکہ غیر معقول بھی ہیں۔

ویزا فری انٹری کا اطلاق صرف سیاحت، کاروباری دوروں، خاندانی ملاقاتوں یا ثقافتی تبادلے کے لیے ہے اور اس میں کام، تعلیم یا صحافتی سرگرمیاں شامل نہیں ہیں۔ سیاحوں کو اپنے سفر کے دوران درست پاسپورٹ رکھنا ہوگا اور بعض صورتوں میں رہائش یا واپسی کے ٹکٹ کا ثبوت دکھانا پڑ سکتا ہے۔

لاوروف نے کہاکہ میں تکون - روس، ہندوستان، چین - فارمیٹ کو دوبارہ فعال کرنے میں اپنی حقیقی دلچسپی کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں، جو کئی سال پہلے (سابق روسی وزیر اعظم) یوجینی پریماکوف کی پہل پر قائم کیا گیا تھا۔ اس کے تحت اب تک 20 سے زائد وزارتی اجلاس منعقد ہوچکے ہیں۔

بھارت اور چین کے درمیان لداخ اور دیگر سرحدی علاقوں میں کشیدگی کو دیکھتے ہوئے، اس ہتھیار کا تجربہ بھارت کے لیے تشویشناک ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی تباہ کن صلاحیت اور رینج بھارتی فوجی تنصیبات اور سرحدی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

ڈیپسانگ اور ڈیمچوک جیسے علاقوں میں گشت دوبارہ شروع ہونے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کچھ نرمی دکھائی دیتی  ہے، لیکن چین کی مسلسل فوجی مشقیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پائیدار امن کے لیے ابھی بھی بہت سے چیلنجز موجود ہیں۔

 ہندوستان اور چین  کی افواج کی طرف سے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے  دو فریکشن پوائنٹس  سے فوجی انخلا کا عمل مکمل کرنے کے ایک دن بعد، دونوں ممالک کے فوجیوں نے دیوالی کے موقع پر کئی سرحدی علاقوں میں مٹھائیوں  کا تبادلہ کیاہے۔

وانگ یی سے ملاقات کے بعد ایس جے شنکر نے کہا کہ ہم دونوں نے سرحدی علاقے میں باقی مسائل کے جلد حل پر بات چیت کی۔ اس مقصد کے لیے سفارتی اور فوجی ذرائع سے کوششیں دوگنا کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ہندوستان کے سامنے تصویر پوری طرح واضح ہے کہ وہ کیسے چین کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔راستہ کیا ہے سب کو معلوم ہے ،طریقہ کیا ہوگا،یہ حکمت سازوں  اور پالیسی سازوں کی ذمہ داری ہے۔