اسرائیل کی طرف سے غزہ پر بمباری جاری ہے۔ (تصوہر: رائٹر)
اسرائیل نے آج جمعہ کے روزغزہ کی پٹی کے مشرق میں ایک بارپھرگولہ باری کی۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پرشدید گولہ باری اور فضائی بم باری کی۔ اس میں سب سے شدید کارروائی غزہ کی پٹی کے شمال میں بیت لاہیا میں ہوئی۔ دوسری جانب، غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں العربیہ کے نمائندے نے بتایا کہ شہرکے وسطی حصے میں گولہ باری کی گئی۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے اندرجاں بحق افراد کی تعداد 110 تک پہنچ چکی ہے۔ اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز غزہ کی پٹی میں اپنا زمینی آپریشن وسیع کرنے کا اعلان کیا۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ “زمینی افواج نے رفح شہر کے علاقے شابورہ میں زمنی کارروائی کی ہے۔ فوج نے دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا ہے … غزہ کی پٹی کے شامل اور وسط میں بھی آپریشن جاری ہے”۔
مقامی میڈیا کاٹزنے فوج کو ہدایت دی ’’غزہ میں اضافی علاقوں پر قبضہ کرلیا جائے، آبادی کوخالی کیا جائے اور غزہ کے ارد گرد سیکورٹی زونزکو وسعت دی جائے تاکہ اسرائیلی کمیونٹیزاورفوجیوں کی حفاظت کی جا سکے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل غزہ کی زمین پر اس وقت تک قبضہ کرتا رہے گا جب تک حماس غزہ میں قید تمام اسرائیلیوں کورہا کرنے پرراضی نہیں ہو جاتا۔ کاٹز نے کہا ہے کہ ’’حماس جتنا یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار پر قائم رہے گا، اتنا ہی علاقہ کھوئے گا۔ اورمقبوضہ علاقے اسرائیل کا حصہ بن جائیں گے۔ اگر یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا گیا تو اسرائیل مستقل کنٹرول کے لیے پٹی کے زیادہ سے زیادہ علاقے پر قبضہ جاری رکھے گا۔“
اسرائیل نے کیا غزہ میں حملہ کرنے کا دعویٰ
اس سے قبل، اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنرل سیکورٹی کے ادارے کے سربراہ رشید جحجوح کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ غزہ میں شہری دفاع نے جمعرات کے روز بتایا کہ “منگل کی صبح سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 504 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ ان میں 190 سے زیادہ بچے ہیں”۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی یہ بتا چکے ہیں کہ فوج اس وقت غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر حملے کر رہی ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں فضائی اورزمینی حملوں کے دوبارہ آغازکو”مکمل طورپرسپورٹ” کررہے ہیں۔ بیان میں حماس کواس صورت حال کا ذمہ دارٹھہرایا گیا ہے۔ یہ بات وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولائن لیوٹ نے صحافیوں کوبتائی۔
غزہ میں اسپتالوں کی نازک صورت حال
دریں اثنا فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یواین آرڈبلیو اے نے کہا کہ امدادی سامان میں بڑی کمی کے درمیان غزہ کی صورت حال تشویش ناک ہے۔ ادارے کے اہلکارنے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’’اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ سب سے طویل عرصہ ہے جب غزہ میں کوئی بھی سامان نہیں پہنچا ہے۔ جنگ بندی کے آخری چھ ہفتوں کے دوران ہم نے امدادی نظام کے طور پر جو پیش رفت کی تھی، اسے تبدیل کیا جا رہا ہے۔‘‘ اس دوران طبی سامان کا ایک ٹرک بھی غزہ کی پٹی میں داخل نہیں ہوا ہے۔ مزید ساحلی انکلیو میں ایندھن کی کمی صورت حال کو مزید خراب کر رہی تھی۔غزہ کے زیادہ تر اسپتالوں کو آنے والے دنوں میں ایندھن نہ ملنے کی صورت میں گرنے اور بند ہونے کا خطرہ ہے۔‘‘ واضح رہے کہ 2 مارچ کو اسرائیل نے جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی میعاد ختم ہونے کے بعد غزہ میں تمام انسانی امداد کو روک دیا، جس میں خوراک، ادویات اور ایندھن شامل ہیں۔ اسرائیل کے اس قدم کی عالمی سطح پر مذمت ہوئی ہے۔ یورپی ممالک نے خبردار کیا کہ ناکہ بندی بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
