Bharat Express DD Free Dish

Bashar Al-Assad is Sentenced to Death: سابق صدر بشار الاسد کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت، سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی ملی موت کی سزا

بشار الاسد کو منگل کے روز دمشق کی ایک فوجداری عدالت نے منصوبہ بند قتل کے جرم میں ان کی غیر حاضری میں سزائے موت سنائی۔ بشار الاسد دسمبر 2024 میں اپنے خاندان کے ہمراہ شام سے فرار ہو گئے تھے، جب حیات تحریر الشام کی قیادت میں اپوزیشن فورسز دمشق کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں۔ بعد ازاں انہیں روس میں پناہ دی گئی۔

دمشق: شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منگل کے روز دمشق کی ایک فوجداری عدالت نے غیر حاضری میں منصوبہ بند قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی۔ جنوبی شام کے درعا صوبے میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی منصوبہ بند قتل اور تشدد کے جرم میں سزائے موت دی گئی ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، دمشق کی عدالت کا یہ فیصلہ شام کی عبوری حکومت کی جانب سے بشار الاسد کے خلاف سنائی جانے والی پہلی سزائے موت ہے۔ عبوری حکام نے رواں سال سابق حکومت سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائی شروع کی تھی، جن میں کچھ مقدمات ملزمان کی موجودگی میں اور کچھ غیر حاضری میں چلائے گئے۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق بشار الاسد کو شام میں 13 سال تک جاری رہنے والی خانہ جنگی سے متعلق الزامات میں مجرم قرار دیا گیا۔ مقدمے میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق الزامات بھی شامل تھے۔

دسمبر 2024 میں روس فرار

بشار الاسد دسمبر 2024 میں اپنے خاندان کے ہمراہ شام سے فرار ہو گئے تھے، جب حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کی قیادت میں اپوزیشن فورسز دمشق کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں۔ بعد ازاں انہیں روس میں پناہ دی گئی۔ ایچ ٹی ایس کی قیادت میں اپوزیشن فورسز نے شمال مغربی صوبے ادلب سے کارروائی شروع کی تھی اور 8 دسمبر 2024 کی صبح دمشق پہنچ گئی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی الاسد خاندان کی پانچ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط حکمرانی کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

عبوری حکومت نے کیا تھا احتساب کا وعدہ

بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے والی فورسز کی قیادت کرنے والے احمد الشرع بعد میں شام کی عبوری حکومت کے سربراہ بنے۔ انہوں نے الاسد دور میں ہونے والے خونریزی اور مظالم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا وعدہ کیا تھا۔ احمد الشرع تقریباً 60 برس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے پہلے شامی رہنما بھی بنے، جہاں انہوں نے شام پر عائد پابندیاں مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ شام سے روانگی کے بعد بشار الاسد نے پہلی مرتبہ عوامی بیان جاری کیا تھا۔ شامی صدارتی دفتر کے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں انہوں نے اس الزام کی تردید کی کہ ان کی روانگی پہلے سے طے شدہ تھی یا وہ دمشق میں آخری لڑائی کے دوران ملک چھوڑ کر گئے تھے۔ الاسد نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ 8 دسمبر 2024 کی صبح تک دمشق میں موجود رہے اور اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن فورسز کے دمشق میں داخل ہونے کے بعد وہ ساحلی شہر لطاکیہ میں واقع ایک روسی فوجی اڈے پر منتقل ہوئے، جہاں سے وہ فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرنا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب فوجی پوزیشن برقرار رکھنا ممکن نہ رہا تو ماسکو نے اڈے کی کمان کو انہیں فوری طور پر روس منتقل کرنے کا انتظام کرنے کی ہدایت دی۔

اقتدار اور خانہ جنگی کا طویل دور

بشار الاسد نے اپنے والد حافظ الاسد کے انتقال کے بعد 2000 میں شام کی صدارت سنبھالی تھی اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ملک پر حکمرانی کی۔ ان کے دورِ اقتدار میں 2011 میں عرب بہار کے دوران حکومت کے خلاف احتجاج شروع ہوا، جس پر شامی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد صورتحال مسلح تنازع میں تبدیل ہوگئی۔ یہ خانہ جنگی 13 سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہی۔ اس دوران لاکھوں افراد ہلاک ہوئے، جبکہ مسلسل لڑائی کے نتیجے میں شام مختلف حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے الاسد حکومت پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے تھے۔

قید خانوں میں تشدد اور اجتماعی ہلاکتوں کے الزامات

الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اپوزیشن جنگجوؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان جیلوں میں مبینہ زیادتیوں، تشدد اور اجتماعی پھانسیوں کے شواہد ملنے کا دعویٰ کیا، جہاں ہزاروں افراد کو قید رکھا گیا تھا۔ دسیوں ہزار شامی شہری، جن کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں حکومت کی تحویل میں رکھا گیا تھا، اب بھی لاپتا ہیں۔ بشار الاسد کو سنائی گئی سزائے موت عبوری حکومت کی جانب سے سابق قیادت کے خلاف ایک اہم عدالتی کارروائی قرار دی جا رہی ہے، تاہم الاسد اس وقت بھی شام سے باہر روس میں موجود ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read