Bharat Express DD Free Dish

Bashar al-Assad

بشار الاسد کو منگل کے روز دمشق کی ایک فوجداری عدالت نے منصوبہ بند قتل کے جرم میں ان کی غیر حاضری میں سزائے موت سنائی۔ بشار الاسد دسمبر 2024 میں اپنے خاندان کے ہمراہ شام سے فرار ہو گئے تھے، جب حیات تحریر الشام کی قیادت میں اپوزیشن فورسز دمشق کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں۔ بعد ازاں انہیں روس میں پناہ دی گئی۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے کہا کہ ساحلی قصبوں بنیاس اور جبلہ کے مضافات اب بھی اسد کے وفاداروں کے کنٹرول میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسد کا آبائی شہر قردہہ اور آس پاس کے بہت سے علوی دیہات بھی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہیں۔

اس کیس کی تحقیقات 2018 میں شروع کی گئی تھیں۔صالح ابو نابوت کے بیٹے عمر ابو نابوت کا کہنا ہے کہ ’یہ کیس انصاف کے لیے طویل جدوجہد کا نقطۂ عروج ہے اور مجھے اور میرے خاندان کو شروع سے ہی انصاف کی امید تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ یہ انکشاف ہوا تھا کہ الاسد کی اہلیہ اسما کو برطانیہ واپس جانے سے روک دیا گیا ہے، لندن میں پیدا ہونے والی 49 سالہ سابق شامی خاتون اول اپنے پاسپورٹ کی میعاد ختم ہونے کی وجہ سے وطن واپس نہیں جا سکیں گی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ صبرین اکتوبر 2018 سے مرکزی بینک میں کام کر رہی تھیں، جب وہ وہاں ایک سرکاری کمیشن کی ڈائریکٹر بنی تھیں۔ انہوں نے بینک کے دفتر پر مبنی نگران ڈویژن کی قیادت بھی کی اور دسمبر 2018 سے دمشق سیکیورٹیز ایکسچینج کے بورڈ میں مرکزی بینک کی نمائندگی کی۔

شام کے معزول صدربشارالاسد کو ماسکو میں پناہ تومل گئی ہے، لیکن وہ سنگین پابندیوں کا سامنا کررہے ہیں۔ روسی افسران نے ان کی جائیداد اورمالی وسائل کو ضبط کرلیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ھیئت تحریر الشام ملیشیا اور دیگر باغیوں سے رابطے میں ہیں، شامی باغیوں کے خلاف پابندیوں پر نظر ثانی ان کے رویے اور کارکردگی سے مشروط ہے۔

شامی عوام ازخود ملک کی تعمیرِ نو کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور بین الاقوامی اور علاقائی طاقتوں کو دانائی سے کام لینا اور ملک کی علاقائی سالمیت کو بچانا ہو گا۔ ترکیہ نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو اس صورتِ حال سے فائدہ نہ اٹھانے دیا جائے۔

روس کے سفیر Mikhail Ulyanov نے کہا کہ بشار الاسد اور ان کا خاندان ماسکو میں ہے۔ روس مشکل وقت میں اپنے دوستوں کو دھوکہ نہیں دیتا ۔ روس اور امریکہ میں یہی فرق ہے۔

شام کے معزول صدر بشار الاسد ماسکو پہنچ گئے ہیں۔ بشار الاسد کی فیملی بھی ان کے ساتھ ہے۔ روسی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ انہیں سیاسی پناہ دی گئی ہے۔