Bharat Express DD Free Dish

Bashar al-Assad

ایڈوائزری میں مزید کہا گیا کہ جو ہندوستانی ممکن ہو فوری طور پر کمرشل فلائٹس کے ذریعے شام چھوڑ دیں۔ دیگر شہریوں کو اپنی سرگرمیوں کو محدود رکھنے اور اپنی حفاظت یقینی بنانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

اسد حکومت کے خاتمے کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور ’انقلاب کا پرچم‘ لہرانا شروع کر دیا۔ یہ ایک پرانا جھنڈا ہے جو بشار الاسد کے مرحوم والد حافظ الاسد کی حکومت سے پہلے شام میں استعمال ہوتا تھا۔

شام میں صدر بشارالاسد کے بھاگنے اوران کے طیارہ کے تباہ ہونے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بشارالاسد ہفتہ کے روز دمشق سے ایک طیارہ میں سوارہوکرایک خفیہ جگہ کے لئے روانہ ہوئے ہیں۔

شام میں باغیوں نے اپنا کنٹرول کر لیا ہے۔ باغیوں نے اتوار (8 دسمبر 2024) کو دارالحکومت دمشق اور سرکاری ٹی وی نیٹ ورک پر قبضہ کر لیا۔ روئٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد طیارے میں سوار ہو کر نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب قطر میں ہونے والے دوحہ فورم کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔اعلامیے کے مطابق قطر، سعودی عرب، اردن، مصر، عراق، ایران، ترکیے اور روس نے مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ شام کی موجودہ صورتحال علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیےخطرناک ہے۔

روس اور ایران نے باہم اتفاق کیا ہے کہ دونوں ملک 'شام کے صدر بشار الاسد کی غیر مشروط مدد جاری رکھیں گے۔' یہ اتفاق روس اور ایران کے صدور کے باہمی رابطے کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے شام میں پیدا صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور مشترکہ حکمت عملی اور اعلان پر اتفاق کیا۔

’سعودی پریس ایجنسی‘ کے مطابق حکومت نے فیصل المجفل کو دمشق میں سفیر مقرر کیا ہے جو کہ 2012 کے بعد پہلی بار شام میں کسی سعودی سفیر کی تعیناتی ہے۔سعودیہ نے اس سال کے آغاز میں شام میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولا تھا۔

اگست 2013میں شامی اپوزیشن کے کارکنوں نے یوٹیوب پر ویڈیوز پوسٹ کی تھیں جن میں مشرقی غوطہ میں کیمیائی حملوں کے اثرات دکھائے گئے تھے۔ ان ویڈیوز میں زمین پر پڑی درجنوں لاشوں کی تصویریں بھی شامل تھیں، جن میں سے بیشتر بچوں کی تھیں۔ان مناظر کی وجہ سے عالمی غم و غصے اور مذمت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

ملک شام کے صدر آج  چین کے مشرقی شہر ہانگژو پہنچے جہاں وہ ہفتہ کو ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے۔سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کی فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ شامی صدر کے ایئر چائنا کے طیارے کا شاندار موسیقی اور رنگ برنگے ملبوسات پہنے فنکاروں کی قطاروں سے استقبال کیا گیا

پارٹی کے اجلاس میں کہا کہ ہم اپنے وزرائے خارجہ کو ساتھ لائیں گے اور پھر ہم بطور لیڈر اکٹھے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد خطے میں امن کو یقینی بنانا اور خطے میں امن برقرار رکھنا ہے