Bharat Express DD Free Dish

Rahmatullah




Bharat Express News Network


اس طرح کے دعووں نے شہریوں اور حکام کے کان کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ یہ ممکنہ طور پر ایک دھوکہ دہی کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ اندور اور دیگر شہروں میں ماضی میں بھی اس طرح کے اسکیمز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

ایونٹ کے شرکاء اور سوشل میڈیا پر صارفین نے ڈاکٹر راجیشور سنگھ کے اس اقدام کی بھرپور تعریف کی اور اسے ماحولیاتی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال قرار دیا۔ اس طرح کے اقدامات سے نئی نسل کو ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت سمجھانے میں مدد ملے گی۔

ذرائع سے خبر مل رہی ہے کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ میں 15 اپریل کو سماعت ہوسکتی ہے۔ عدالت کی طرف سے چیف جسٹس کی بنچ 15 اپریل کو اس معاملے کی سماعت کرسکتی ہے ۔ حالانکہ حتمی اعلان باقی ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ بھرتی کے دوران کئے گئے کسی بھی جرم کی مذمت کی جانی چاہئے۔ تاہم، منصفانہ طریقوں سے منتخب اساتذہ کے ساتھ داغدار اساتذہ کے برابر سلوک کرنا ایک بہت بڑی ناانصافی ہے۔

فی الحال دونوں فریقوں نے مذاکرات کی تصدیق کر دی ہے، لیکن ان کی نوعیت کے بارے میں ابہام برقرار ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق، یہ بات چیت ممکنہ طور پر اسٹیون وٹکاف کی سربراہی میں ہوگی، جو ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی ہیں۔

ان چاروں کو جے پور بم دھماکوں سے متعلق آٹھ مختلف مقدمات میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ بعد ازاں راجستھان ہائی کورٹ نے مارچ 2023 میں سب کو بری کر دیا۔ 17 سال پرانے کیس میں استغاثہ نے 112 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے اور عدالت میں تقریباً 1200 دستاویزات پیش کیے۔

سپریم کورٹ میں ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے وقف ترمیمی ایکٹ 2024 کے خلاف ایک درخواست دائر کی ہے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ وقف ترمیمی ایکٹ مذہبی امور میں مداخلت کرتا ہے۔

گورنر کے کردار کا خاکہ پیش کرتے ہوئے، بنچ نے کہاکہ تنازع کے وقت، اسے اتفاق رائے سے مسائل کو حل کرنا چاہیے، ریاستی مشینری کو آسانی سے کام کرنے کے لیے اپنی دانشمندی اور صوابدید کا استعمال کرنا چاہیے اور اسے کسی رکاوٹ کا شکار نہیں ہونے دینا چاہیے۔

کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیرا نے اس بارے میں کہا ہے کہ کانگریس پارٹی انصاف کے راستے پر چلے گی اور عوام کی حمایت حاصل کرے گی۔ جس طرح کانگریس نے آزادی کے لیے سخت محنت کی اسی طرح پارٹی گجرات میں بھی سخت محنت کرے گی۔

اس متنازعہ مقام  کا معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہائی کورٹ نے اس کی پینٹنگ کا حکم دیا تھا۔ جس کے بعد مسجد کمیٹی نے مسجد کی بیرونی دیواروں کو پینٹ کروا دیا۔