Urdu Conclave 2026

Habiburrahman




Bharat Express News Network


’’جب ہم سب نے قومی ترانہ یکجا ہوکر گایا اور ہال میں ہماری آوازیں گونجیں تو مجھے ایک گہرا احساسِ حب الوطنی اور اتحاد محسوس ہوا۔‘‘ یہ لمحہ زیرش اور دیگر طلبہ کے لیے ناقابل فراموش تجربہ بن گیا، جو انہیں ملک و قوم کی خدمت اور مستقبل میں بہترین کارکردگی دکھانے کی ترغیب دیتا رہے گا۔

’’وزیراعظم کی قیادت میں دنیا ایک قدیم تہذیب کو دیکھ رہی ہے جو اپنی جڑوں کو چھوڑے بغیر جدید طاقت میں تبدیل ہو رہی ہے۔ یہی وژن ہندوستان کو عالمی سطح پر نئی پہچان اور ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جا رہا ہے۔‘‘

ہائی کورٹ نے اگرچہ محمد گلریز کی شمولیت پر عدم اطمینان ظاہر کیا تھا، لیکن تقرری کو درست قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے عدالت عظمیٰ میں دلائل دیے کہ اگر شوہر ووٹنگ اور اجلاس میں شامل نہ ہوتے تو پروفیسر نعیمہ خاتون کا نام پانچ رکنی پینل میں شامل ہی نہیں ہوتا۔

مہاراجہ بیر بکرم کشور مانکیہ بہادر جی کو تریپورہ کا ’’جدید معمار‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان کی دوراندیش پالیسیوں اور اصلاحات نے نہ صرف تعلیم اور انفراسٹرکچر کو نئی راہ دکھائی بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے بھی سنگ میل قائم کیا۔ آج مرکزی اور ریاستی حکومتیں ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔

’’سیلاب سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ صرف عوام سے اپیل کرنے کے بجائے متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے، نالوں کی صفائی اور بروقت انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ دہلی کے شہری بڑے بحران سے بچ سکیں۔‘‘

صدر شعبۂ اردو پروفیسرکوثرمظہری نے طلبہ سے کہا کہ تعلیم کا اصل مقصد محض کتابی علم حاصل کرنا نہیں بلکہ باہمی تعاون، یکجہتی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بیداری سے نہ صرف جامعہ بلکہ پورے ملک میں ایک مثبت اور خوشگوار ماحول قائم ہوگا۔

بھارت واپسی سے قبل شبھانشو نے ایک انسٹاگرام پوسٹ میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’’میں ان شاندار لوگوں کو چھوڑ کر اداس ہوں جو اس مشن کے دوران میرے خاندان جیسے بن گئے، لیکن ساتھ ہی میں اپنے دوستوں، اہل خانہ اور بھارت کے سب لوگوں سے دوبارہ ملنے پر بہت پرجوش ہوں۔‘‘

ہیرا درآمد کرنے والے جیولر نے دبئی پولیس کی فوری کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا: ’’میرے فون کرنے کے چند منٹوں بعد ہی پولیس پہنچی، مجھے تسلی دی اور تحقیقات شروع کر دیں۔ اگلی ہی صبح ملزمان گرفتار ہو چکے تھے اور میرا ہیرا برآمد کر لیا گیا۔‘‘

یہ دورہ وزیراعظم نریندر مودی کے آئندہ دورۂ چین سے قبل ہو رہا ہے۔ مودی 31 اگست سے یکم ستمبر تک تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ حالیہ مہینوں میں بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری کے لیے کئی اہم اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں، جن میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔

بھارت کو تکنیکی خودکفالت کو اپنی ’’دوسری آزادی کی جدوجہد‘‘ بنانا چاہیے تاکہ ملک اپنے بہتر مستقبل کے لیے دوسروں پر انحصار نہ کرے۔ ’’آپ بھارت کے نئے مجاہدین آزادی ہیں۔ اسی کھڑگپور کی زمین پر کبھی نوجوانوں نے برطانوی غلامی کے خلاف قربانی دی تھی۔ آج آپ کے خیالات ہتھیار ہیں اور آپ کی ایجادات گولیوں کی مانند ہیں۔‘‘