کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار۔ (فائل فوٹو)
کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اسمبلی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا ترانہ پڑھنے پر معافی مانگی ہے۔ انہوں نے وضاحت دی کہ یہ اقدام بی جے پی کے لیڈروں کا مذاق اڑانے کے لیے تھا اور ان کا مقصد کسی کے جذبات مجروح کرنا نہیں تھا۔ بنگلورو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیوکمار نے کہا کہ ’’میں نے صرف تبصرہ کیا اور بی جے پی کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔ کچھ دوست اس بات کو سیاسی رنگ دے کر عوام میں الجھن پیدا کر رہے ہیں۔ اگر کسی کو اس سے تکلیف پہنچی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔‘‘
कर्नाटक डिप्टी सीएम DK shivkumar ने सदन में क्यों गाई RSS की प्रार्थना, कांग्रेसी नाराज़ pic.twitter.com/aTOCh3bUlR
— Rudra News Express (@rudranewsexpres) August 23, 2025
کانگریس سے وفاداری کا اعادہ
شیوکمار نے بی جے پی اور آر ایس ایس میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’گاندھی خاندان پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔ میں پیدائشی کانگریسی ہوں اور کانگریسی رہ کر ہی مروں گا۔ میرے دوست اور حمایتی مختلف سیاسی جماعتوں میں ہیں، لیکن میں کسی کو تکلیف نہیں دینا چاہتا۔‘‘
Karnataka: Dy CM DK Shivakumar apologises for reciting RSS anthem, says ‘tried pulling BJP’s leg’
Read @ANI Story | https://t.co/IX4Lek0DBY#Karnataka #DyCM #dkshivkumar #apology #RSSanthem #BJP pic.twitter.com/cmSY7OznpE
— ANI Digital (@ani_digital) August 26, 2025
واقعے کی تفصیل اور پس منظر
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب شیوکمار نے کرناٹک اسمبلی میں آر ایس ایس کا ترانہ ’’نمستے سدا وتسلے ماتربھومے‘‘ پڑھا۔ یہ واقعہ جمعرات کو اسمبلی میں اس وقت پیش آیا جب بی جے پی ایم ایل اے آر اشوکا نے شیوکمار کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کو چناسوامی اسٹیڈیم بھگدڑ کے لیے ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ جواب میں شیوکمار نے کہا کہ وہ بی جے پی کی تمام چالوں سے واقف ہیں اور پھر آر ایس ایس کے ترانے کی چند سطریں پڑھ دیں۔ اس کے بعد سے ان کے بی جے پی میں شمولیت کے بارے میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی تھیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

