Urdu Conclave 2026

Habiburrahman




Bharat Express News Network


اس احتجاج میں مختلف مکاتب فکر، انسانی حقوق کے علمبردار، ملی و سماجی تنظیمیں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوں گے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس مظاہرے میں شرکت نہ صرف فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہوگا بلکہ عالمی برادری کو امن، انصاف، اتحاد اور بھائی چارے کا مضبوط پیغام بھی پہنچے گا۔

نئے بل کا مقصد ای-اسپورٹس، آن لائن سوشل گیمزکو فروغ دینا اور آن لائن منی گیمز پر پابندی لگانا ہے۔ یہ بل نوجوانوں اور کنبوں کو مالی،نفسیاتی اور سماجی نقصانات سے بچائے گا۔

وفاقی ڈھانچے اور عدلیہ کو نظر انداز کرنے کا دعویٰ، تین بلوں پر شدید مخالفت۔ ان بلوں کے تحت، اگر کسی وزیر اعظم، مرکزی وزیر یا ریاستی وزیر کو سنگین فوجداری الزامات میں 30 دن تک کے لیے گرفتار کیا جائے یا حراست میں رکھا جائے تو وہ 31ویں دن انہیں اپنے عہدے سے دستبردار ہونا پڑے گا۔

جے رام رمیش کے مطابق اب یہ فیصلہ مودی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اس سفارش کو قانون میں ڈھالتی ہے یا نہیں۔ کمیٹی کی رپورٹ نے اس اقدام کی آئینی بنیاد اور ضرورت دونوں کو مضبوط کیا ہے۔

لوک سبھا میں آئینی ترمیمی بل پر ہنگامہ۔ یہ تینوں بل ملک کے آئینی ڈھانچے اور وفاقی نظام پر اثرانداز ہونے کے باعث اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن ارکان نے بل کو جمہوری اور آئینی اصولوں کے خلاف قرار دیا اور سخت مخالفت کا اعلان کیا۔ اب یہ تینوں بل جے پی سی کے زیر غور آئیں گے، جہاں ممکنہ ترامیم یا سفارشات دی جا سکتی ہیں۔

پڑوسی ملک پرتگال میں بھی آگ کی صورتحال تشویشناک ہے۔ وہاں 3,700 فائر فائٹرز چار بڑے مقامات پر لگی آگ بجھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان جنگلاتی آگ سے 2,350 مربع کلومیٹر رقبہ متاثر ہوا اور 2 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جو اس مدت کے لیے گزشتہ دو دہائیوں کے اوسط نقصان سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

جے پی نڈا نے اس معاملے پر راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ویڈیو شیئر کیا۔ اس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا ’’ کھڑا ہوں آج بھی وہیں...جہاں میرا جھوٹ پکڑایا، سچ سامنے آیا اور میں نے اپنا مذاق بنوایا...کھڑا ہوں آج بھی وہیں۔‘‘ نڈا نے جو ویڈیو جاری کیا وہ اسی خاتون کا ہے جس نے راہل گاندھی اور تیجسوی یادو کے سامنے چھ افراد کے ووٹ کاٹنے کی شکایت کی تھی۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اعلان کیا ہے کہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے ایک عبوری آئین تیار کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ماہرین قانون، سیاسی و سماجی شخصیات اور سول سوسائٹی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

غور طلب یہ ہے کہ صدر ٹرمپ واقعی پوسٹل بیلٹ کے خاتمے کے لیے صدارتی حکم نامہ جاری کر پاتے ہیں یا یہ اعلان صرف انتخابی سیاست کا حصہ ثابت ہوتا ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس بیان نے امریکی سیاست اور جمہوریت کے مستقبل پر کئی نئے سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

NCPCR  نے اپنی عرضی میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا مسلم پرسنل لاء کے تحت کم عمری میں شادی کی اجازت ’’چائلڈ میرج ایکٹ 2006‘‘ پر فوقیت رکھتی ہے یا نہیں۔ ہائی کورٹ نے اپنے 2022 کے فیصلے میں کہا تھا کہ بلوغت کے بعد (تقریباً 15 سال کی عمر میں) مسلم لڑکی نکاح کرنے کی اہل ہے۔