Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi doubles down on “vote theft” allegations: ’ووٹ چوری‘ کا آغاز گجرات سے ہوا، 2014 میں قومی سطح پر پہنچا، ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کے دوران راہل گاندھی کی بی جے پی اور امت شاہ پر سخت تنقید

243 رکنی اسمبلی میں این ڈی اے کے پاس 131 نشستیں ہیں جن میں بی جے پی 80، جے ڈی یو 45، ایچ اے ایم (ایس) 4 اور 2 آزاد امیدوار شامل ہیں۔ ’انڈیا بلاک‘ کے پاس 111 نشستیں ہیں، جن میں آر جے ڈی 77، کانگریس 19، سی پی آئی (ایم ایل) 11، سی پی آئی (ایم) 2 اور سی پی آئی 2 نشستوں پر موجود ہے۔

مدھوبنی (بہار): بہار میں ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کے نو دن مکمل ہونے پر کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایک بار پھر الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ووٹ چوری میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل ’’گجرات سے شروع ہوا اور 2014 میں قومی سطح پر آکر دیگر ریاستوں تک پھیل گیا‘‘۔ انہوں نے کہا ’’میں جھوٹ نہیں بولتا، جب بھی بات کرتا ہوں حقائق سامنے رکھ کر کرتا ہوں۔‘‘

امت شاہ کے طویل اقتدار کے دعوے پر سوال

راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ’’امت شاہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ بی جے پی کی حکومت 40-50 سال تک چلے گی۔ مجھے یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑا کہ انہیں یہ کیسے معلوم کہ اتنے سال تک وہ اقتدار میں رہیں گے؟ آج ملک کو یہ حقیقت معلوم ہو گئی ہے کہ وہ ووٹ چوری کرتے ہیں۔‘‘

2023 کے قانون پر اعتراض — الیکشن کمشنرز کو قانونی تحفظ

راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ 2023 میں بی جے پی نے ایسا قانون بنایا جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز کو کسی بھی قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہو گیا۔ انہوں نے کہا ’’مہاراشٹر اور ہریانہ اسمبلی انتخابات میں انہوں نے تاریخیں بدلیں۔ الیکشن کمشنر کی تقرری کا طریقہ یہ ہے کہ مودی انتخاب کریں گے، قائد حزب اختلاف صرف بیٹھا رہتا ہے اور کچھ نہیں کر سکتا۔ 2023 میں خاموشی سے نیا قانون لایا گیا تاکہ یہ لوگ بلا خوف ووٹ چوری کر سکیں۔‘‘

’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کا مقصد اور شیڈول

16 روزہ ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کی قیادت کانگریس ایم پی راہل گاندھی اور آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف عوام میں بیداری پیدا کرنا ہے، جسے اپوزیشن رہنما ’ووٹ چوری‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ یاترا 20 اضلاع میں 1,300 کلومیٹر کا سفر طے کر کے یکم ستمبر کو پٹنہ میں اختتام پذیر ہو گی۔

بہار اسمبلی انتخابات اور سیاسی صف بندی

بہار اسمبلی کے انتخابات اس سال کے آخر میں متوقع ہیں، تاہم الیکشن کمیشن نے تاریخوں کا اعلان نہیں کیا۔ 243 رکنی اسمبلی میں این ڈی اے کے پاس 131 نشستیں ہیں جن میں بی جے پی 80، جے ڈی یو 45، ایچ اے ایم (ایس) 4 اور 2 آزاد امیدوار شامل ہیں۔ ’انڈیا بلاک‘ کے پاس 111 نشستیں ہیں، جن میں آر جے ڈی 77، کانگریس 19، سی پی آئی (ایم ایل) 11، سی پی آئی (ایم) 2 اور سی پی آئی 2 نشستوں پر موجود ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read