Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


امت شاہ نے وضاحت کی کہ اب پولیس طاقت یا تھرڈ ڈگری تشدد کے بجائے سائنسی شواہد پر انحصار کرے گی۔ نئے قوانین کے تحت پولیس، جیل، عدلیہ، استغاثہ اور فرانزک کے پانچ ستونوں کو آن لائن مربوط کر دیا گیا ہے۔

منصوبے پر تقریباً 350 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے اور اس کا مقصد دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کی فلاح ہے۔ 350 کروڑ کی لاگت سے بنا منصوبہ، دہلی-این سی آر کی ضروریات کو پورا کرے گا۔

حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں نے تعلقات میں بہتری لانے کے لیے مذاکرات کیے ہیں۔ اگست میں وانگ ای نے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال کے ساتھ سرحدی مسائل پر 24ویں خصوصی نمائندہ مذاکرات کی بھی صدارت کی تھی اور وزیرِاعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی۔

وزارت نے کہا کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے عوامی رابطوں کو فروغ ملے گا اور دوطرفہ تعلقات کو بتدریج معمول پر لانے میں مدد ملے گی۔ طویل تعطل کے بعد فضائی خدمات کی بحالی سے عوامی رابطے اور دوطرفہ تبادلے کو تقویت ملے گی۔

آرایس ایس سربراہ نے پڑوسی ممالک کی بدلتی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال میں عوامی بے اطمینانی کی بنیاد پر حکومتوں کی تبدیلیاں ہوئیں جو ہمارے لیے سبق آموز ہیں۔

مرکزی وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ ان نئے اسکولوں کے قیام سے معیاری تعلیم ان ریاستوں اور اضلاع تک پہنچے گی جہاں اس کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ یہ اقدام قومی یکجہتی، شمولیت اور خودکفیل بھارت کے مقصد کو بھی مضبوط کرے گا۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف صدر پتن کے دورے سے قبل بھارت آئیں گے۔ سربراہی اجلاس کی تیاری اور اہم دوطرفہ معاملات پر گفتگو کا امکان۔

وزیراعظم مودی نے یہ بھی کہا ’’سنگھ پر کئی بار حملے ہوئے، سازشیں رچی گئیں، اور اسے مرکزی دھارے سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی، لیکن سنگھ کا مقصد ہمیشہ ایک بھارت شریشٹھ بھارت رہا ہے۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا: ’’فلپائن میں زلزلے سے ہونے والے جانی نقصان اور بڑے پیمانے پر تباہی کی خبر سن کر دلی صدمہ ہوا۔ میری دعائیں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔ اس مشکل وقت میں بھارت فلپائن کے ساتھ ہے۔‘‘

آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات میں وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’دراندازوں سے پیدا ہونے والی آبادیاتی تبدیلی سماجی ہم آہنگی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ یہ سوال ہماری اندرونی سلامتی اور مستقبل سے جڑا ہے۔ اسی لیے میں نے لال قلعے سے ’ڈیموگرافک مشن‘ کا اعلان کیا تھا۔ ہمیں چوکس رہنا ہوگا اور اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔‘‘