Bharat Express DD Free Dish

PM Modi to attend ASEAN-India Summit today: آج 22ویں آسیان۔انڈیا سمٹ میں ورچوئل وسیلے سے شرکت کررہے ہیں وزیراعظم نریندر مودی

وزیراعظم کو ملیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے 47ویں آسیان سمٹ کے لیے دعوت دی — اجلاس میں بھارت-آسیان تعلقات کے فروغ پر گفتگو ہوگی۔

21ویں آسیان-انڈیا سمٹ میں وزیراعظم مودی (فائل فوٹو)

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی اتوار کو 22ویں آسیان۔انڈیا سمٹ میں ورچوئلی شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس ملیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کی دعوت پر کوالالمپور میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں آسیان (ASEAN) کا 47واں سربراہی اجلاس جاری ہے۔ اس سال کی سمٹ میں ٹیمور-لیستے کو باقاعدہ طور پر آسیان کا رکن تسلیم کرلیا گیا ہے، جس سے رکن ممالک کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔

بھارت-آسیان تعلقات کا جائزہ

وزارت خارجہ کے مطابق، اس اجلاس میں وزیراعظم مودی اور آسیان رہنما بھارت-آسیان تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیں گے اور جامع تزویراتی شراکت داری (Comprehensive Strategic Partnership) کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ وزارت نے کہا کہ آسیان کے ساتھ تعلقات کا فروغ بھارت کی ’’ایکٹ ایسٹ پالیسی‘‘ اور ’’انڈو پیسفک وژن‘‘ کا کلیدی ستون ہے۔

ایسٹ ایشیا سمٹ میں شریک ہوں گے جے شنکر

وزیرخارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر وزیراعظم مودی کی نمائندگی کرتے ہوئے 20ویں ایسٹ ایشیا سمٹ میں 27 اکتوبر کو کوالالمپور میں شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس انڈو پیسفک خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی سے متعلق چیلنجز پر تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کرے گا۔

مودی کی آسیان سمٹ میں مستقل شرکت

وزیرِ اعظم مودی نے 2014 سے اب تک تمام آسیان۔انڈیا سمٹ میں شرکت کی ہے (سوائے 2022 کے)، جبکہ 2018 میں نئی دہلی میں منعقد ہونے والی یادگاری 25ویں سالگرہ سمٹ میں آسیان کے تمام دس ممالک کے رہنماؤں نے بھارت کے 69ویں یوم جمہوریہ کی پریڈ میں بطور خصوصی مہمان شرکت کی تھی۔

مودی اور انور ابراہیم کی گفتگو

گزشتہ جمعرات کو وزیراعظم مودی نے اپنے ایکس (سابق ٹوئٹر) پیغام میں بتایا کہ ان کی ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے خوشگوار گفتگو ہوئی، جس میں انہوں نے ملیشیا کی آسیان چیئرمین شپ پر مبارکباد دی اور سمٹ کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا: ’’میں آسیان۔انڈیا سمٹ میں ورچوئلی شرکت کے منتظر ہوں اور بھارت-آسیان جامع تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہوں۔‘‘

آسیان ممالک کا تعارف

آسیان (ASEAN) یعنی ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز کا قیام 8 اگست 1967 کو بینکاک (تھائی لینڈ) میں عمل میں آیا۔ اس کے بانی اراکین انڈونیشیا، ملیشیا، فلپائن، سنگاپور اور تھائی لینڈ تھے۔ بعد میں برونائی، کمبوڈیا، لاؤس، میانمار، ویتنام اور حال ہی میں ٹیمور-لیستے بھی اس میں شامل ہوگئے۔ آسیان کا چارٹر 2008 میں نافذ ہوا، جس نے تنظیم کو آئینی حیثیت دی۔ اس کا مرکزی دفتر جکارتہ (انڈونیشیا) میں واقع ہے۔

بھارت-آسیان تعلقات کا تاریخی پس منظر

بھارت نے 1992 میں آسیان کے ساتھ ’’سیکٹورل ڈائیلاگ پارٹنر‘‘ کی حیثیت سے تعلقات کا آغاز کیا، جو 1995 میں ’’ڈائیلاگ پارٹنر‘‘ کی سطح تک بڑھا۔ 2002 میں پہلا سربراہی اجلاس کمبوڈیا میں منعقد ہوا، جس کے بعد تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔ 2012 میں نئی دہلی میں منعقدہ یادگاری اجلاس کے دوران ان تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں تبدیل کیا گیا۔ 2018 میں 25ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں فریقین نے بحری تعاون (Maritime Cooperation) پر خصوصی توجہ دینے پر اتفاق کیا۔ 2022 میں 30ویں سالگرہ کے موقع پر بھارت-آسیان تعلقات کو جامع تزویراتی شراکت داری (Comprehensive Strategic Partnership) کی سطح تک بلند کیا گیا۔

آسیان سمٹ اور آسیان-انڈیا سمٹ میں کیا فرق ہے؟

آسیان سمٹ، آسیان ممالک (یعنی جنوب مشرقی ایشیا کے 11 ممالک) کا سالانہ سربراہی اجلاس ہوتا ہے۔ اس میں صرف آسیان کے رکن ممالک (جیسے انڈونیشیا، ملیشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ وغیرہ) کے سربراہان شریک ہوتے ہیں۔ یہ اجلاس ملیشیا کی میزبانی میں کوالالمپور میں ہو رہا ہے۔

آسیان-انڈیا سمٹ، یہ اجلاس آسیان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر مبنی ہے۔ یعنی اس میں آسیان کے تمام رکن ممالک + بھارت شامل ہوتے ہیں۔ اس سمٹ میں بھارت-آسیان شراکت داری، تجارت، سلامتی، ثقافت، اور انڈو-پیسفک تعاون جیسے امور پر گفتگو ہوتی ہے۔ یہ اجلاس بھی عام طور پر اسی موقع پر منعقد کیا جاتا ہے جب آسیان سمٹ چل رہی ہوتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read