احمدآباد (گجرات): اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون لمیٹڈ (APSEZ)، جو ہندوستان کی سب سے بڑی بندرگاہی کمپنی ہے، آئندہ انڈیا میری ٹائم ویک (IMW) 2025 میں ملک کی بلو اکانومی کی تعمیر میں اپنے کلیدی کردار کو پیش کرنے جا رہی ہے۔ یہ تقریب 27 سے 31 اکتوبر تک ممبئی کے بمبئی ایگزیبیشن سینٹر میں منعقد ہوگی۔
ٹیکنالوجی، خود انحصاری اور اختراعات کا امتزاج
اڈانی پورٹس اس ایونٹ میں اپنے پویلین کے ذریعے یہ دکھائے گا کہ کس طرح ٹیکنالوجی، شمولیت، مقامی اختراعات اور پائیداری کے ذریعے ہندوستان سمندری شعبے میں خود انحصاری اور پائیدار ترقی کی سمت گامزن ہے۔ APSEZ Pavilion کو چار کلیدی ستونوں پر استوار کیا گیا ہے: آتم نربھر بھارت (خود انحصار ہندوستان)، خواتین کی بااختیاری، مصنوعی ذہانت سے مزین لاجسٹکس نظام اور اثرات و اثرپذیری۔ اس سال خصوصی توجہ ان مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر ہے جو بندرگاہ، ڈریجنگ اور ہاربر صلاحیتوں میں ترقی کے لیے Make-in-India فریم ورک کے تحت طے کی جائیں گی۔
وزیراعظم نریندر مودی کی شرکت
وزیراعظم نریندر مودی کی 29 اکتوبر کو موجودگی اور اس کے بعد ہونے والے عالمی میری ٹائم سی ای او فورم سے یہ تقریب مزید اہمیت حاصل کرے گی، جو ہندوستان کے عالمی سمندری قیادت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
میری ٹائم ویک 2025: سمندری بیداری کا ویژن
یہ تقریب وزارت پورٹس، شپنگ اینڈ واٹر ویز کے تحت انڈین پورٹس ایسوسی ایشن (IPA) کے ذریعے منعقد کی جا رہی ہے، جس میں ایک لاکھ سے زائد مندوبین، 500 سے زیادہ نمائش کنندگان، 200 سے زائد عالمی مقررین اور 100 سے زیادہ ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے۔ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان نے ساگرمالا اور Maritime Vision 2030 جیسے فریم ورک کے تحت 150 سے زائد منصوبوں کے ذریعے سمندری ترقی کو نئی سمت دی ہے، جن کا مقصد بندرگاہوں کے ذریعے ترقی، لاجسٹکس لاگت میں کمی اور پائیدار ساحلی ڈھانچے کی ترویج ہے۔
ادانی پورٹس: بندرگاہی ترقی کا قومی ستون
اڈانی گروپ کا حصہ ہونے کے ناطے APSEZ، 1990 کی دہائی میں صرف ایک بندرگاہ (منڈرا، گجرات) سے شروع ہو کر آج 15 ملکی اور 4 بین الاقوامی بندرگاہوں کا آپریٹر بن چکا ہے۔ اس کے تحت 12 ملٹی موڈل لاجسٹک پارک، 132 ریکس اور 5000 سے زائد وہیکل فلیٹ شامل ہیں اور یہ ملک کے کل کارگو کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کو سنبھالتا ہے۔
خواتین کی شمولیت اور تکنیکی خودکفالت
ویژنجم پورٹ (کیرالہ) میں جو ہندوستان کا پہلا ٹرانس شپمنٹ حب ہے اڈانی پورٹس نے ملک کی پہلی خواتین کوے کرین آپریٹرز کی تربیت و تعیناتی کی ہے، جو سمندری صنعت میں مساوی مواقع کی مثال ہے۔ اس کا زیرو ٹچ ملٹی موڈل لاجسٹکس پلیٹ فارم مصنوعی ذہانت کی مدد سے پورٹ، ریل، سڑک اور آبی راستوں کو جوڑتا ہے، جس سے نقل و حمل کی لاگت کم اور کارکردگی بہتر بنائی جا رہی ہے۔
بلو اکانومی اور پائیدار ترقی کی سمت
ہندوستان کی بلو اکانومی جو فی الحال ملکی جی ڈی پی کا تقریباً 4 فیصد (13.2 ارب امریکی ڈالر) ہے، تیزی سے ترقی کی راہ پر ہے جس میں ماہی گیری، قابلِ تجدید توانائی، ساحلی سیاحت اور لاجسٹکس شامل ہیں۔ پورٹ انفراسٹرکچر میں 100 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کی اجازت، گرین ٹگ ٹرانزیشن پروگرام (GTTP) اور ہریت ساگر گائیڈ لائنز جیسے اقدامات کے ذریعے پائیداری اور خودانحصاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
عالمی سطح پر ہندوستان کا سمندری اثر
اڈانی پورٹس کی بین الاقوامی موجودگی حیفہ (اسرائیل)، کولمبو (سری لنکا)، کوئنزلینڈ (آسٹریلیا) اور دارالسلام (تنزانیہ) تک پھیلی ہوئی ہے، جو ہندوستان کے SAGAR ویژن (Security and Growth for All in the Region) کے مطابق علاقائی تعاون اور تجارتی لچک کو مستحکم کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
