Bharat Express DD Free Dish

Adani Ports

دھامرا پورٹ کو قابل تجدید بجلی فراہم کرنے کے لیے کیپٹیو رینیو ایبل پاور، تھرڈ پارٹی ایکسیس انتظامات اور اوڈیشہ کے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت گرین پاور کی خریداری کا استعمال کیا گیا ہے۔پورٹ کی قابل تجدید بجلی کا تقریباً 25 سے 30 فیصد حصہ گجرات کے کھاوڑا میں اے پی ایس ای زیڈ کے کیپٹیو ہائبرڈ پاور پلانٹ سے حاصل ہوتا ہے،

اشونی گپتا کے مطابق وِزنجھم بندرگاہ نے اپنے پہلے مکمل سال کے آپریشن میں 23 لاکھ سے زیادہ TEUs کنٹینرز ہینڈل کیے اور ہندوستان کی ٹرانس شپمنٹ کنٹینر مارکیٹ کا تقریباً 30 فیصد حصہ حاصل کیا۔ بندرگاہ تقریباً 400 میٹر لمبے انتہائی بڑے کنٹینر جہازوں کو بھی ہینڈل کرچکی ہے۔APSEZ اب تک وِزنجھم میں 7,700 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرچکی ہے،

ڈانی پورٹس کے کل وقتی ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) اشونی گپتا نے اس کامیابی کو کمپنی کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی خودمختار ریٹنگ کے مساوی درجہ حاصل کرنا کمپنی کے مضبوط کاروباری ماڈل، قابل اعتماد کیش فلو، معیاری انفراسٹرکچر اثاثوں اور مالیاتی نظم و ضبط کا واضح ثبوت ہے۔

گوتم اڈانی نے کہا کہ اب گروپ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ سرمایہ حاصل کرنا نہیں بلکہ منصوبوں کو اتنی تیزی سے مکمل کرنا ہے کہ وہ بھارت کی بڑھتی ہوئی توانائی اور انفراسٹرکچر ضروریات کو پورا کر سکے۔

کمپنی کے مطابق اس خصوصی ریفر ٹرین کے ذریعے منجمد غذائی اشیا کو مخصوص درجہ حرارت میں بروقت منزل تک پہنچایا جائے گا، جس سے مصنوعات کے معیار کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ اندرونی علاقوں سے بندرگاہوں تک بہتر رابطہ بھی قائم ہوگا۔یہ ٹرین بھارت سے مختلف بین الاقوامی منڈیوں جیسے ملائیشیا، سنگاپور، جنوبی کوریا، جاپان، تائیوان اور انڈونیشیا تک سامان پہنچائے گی۔

کمپنی نے ایک اہم سنگ میل حاصل کرتے ہوئے ایک ہی سال میں 50 کروڑ میٹرک ٹن سے زائد بندرگاہی کارگو سنبھالنے والی بھارت کی پہلی مربوط ٹرانسپورٹ کمپنی بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی کمپنی کی کارکردگی مضبوط رہی، جہاں آسٹریلیا اور کولمبو میں آپریشنز کی توسیع کے باعث بیرونِ ملک بندرگاہی آمدنی میں 34 فیصد اضافہ ہوا۔

اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون لمیٹڈ (اے پی ایس ای زیڈ) نے جمعہ کو اعلان کیا کہ اس نے بھارت کے پہلے ’پورٹ آف ریفیوج‘ (پی او آر) کو شروع کر دیا ہے، جس سے سمندری ہنگامی حالات سے نمٹنے کے بنیادی ڈھانچے میں طویل عرصے سے موجود کمی دور ہو گئی ہے اور سمندر میں پھنسنے والے جہازوں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مضبوط نظام قائم ہو گیا ہے۔

یہ ٹرمینل بھارت کے مشرقی سمندری ساحل پر مال برداری کی صلاحیت اور کارکردگی کو بڑھانے کی سمت ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ یہ ٹرمینل خشک بلک کارگو کو سنبھالنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جس کی سالانہ گنجائش 40 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔

اڈانی پورٹس نے کہا کہ اسرائیل کے ہائیفا پورٹ پرہمارے گروپ کے سبھی ملازم محفوظ ہیں اورکام کاج معمول کے مطابق ہیں۔ علاقائی کشیدگی کے باوجود پورٹ انفرا اسٹرکچر پوری طرح محفوظ ہے۔

اڈانی پورٹس نے این ایم ڈی سی اور ویلے برازیل کے ساتھ گنگاورم پورٹ پر آئرن اور بلینڈنگ اور اسپیشل اکنامک زون (ایس ای زیڈ) کی ترقی کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں، جس کے بعد پورٹ کی صلاحیت بڑھ کر 75 ملین میٹرک ٹن (ایم ایم ٹی) ہو جائے گی۔