Bharat Express DD Free Dish

Adani Ports Reports Significant Growth: اڈانی پورٹس نےمالی سال2025 کی دوسری سہ ماہی میں 42فیصد خالص منافع  حاصل کیا

آندھرا پردیش اور تامل ناڈو میں کرشنا پٹنم، کٹوپلی اور اینور اور پڈوچیری میں کرائیکل پورٹ ملک کی کل بندرگاہوں کے حجم میں ان کا 27 فیصد حصہ ہے۔ملک سے باہر کی بات کریں تو اے پی ایس ای زیڈ کنٹینر ٹرمینل 2 اسرائیل میں حیفہ پورٹ اور تنزانیہ میں دارالسلام پورٹ چلاتا ہے۔

مالی سال2025 کی دوسری سہ ماہی میں اڈانی پورٹس (APSEZ) کے نتائج شاندار رہے ہیں۔ کمپنی کے منافع میں سالانہ بنیادوں پر 36.9فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ستمبر کی سہ ماہی میں کمپنی کا منافع سال بہ سال 1,762 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2,413 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔اڈانی پورٹس کی آمدنی میں 6.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ 6,646 کروڑ روپے سے بڑھ کر 7,067 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ کمپنی کے مارجن میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ 58.4فیصد سے بڑھ کر 61.8فیصد ہو گیا ہے۔

اڈانی ہورٹس کا منافع 1,762 کروڑ روپے سے 36.9 فیصد بڑھ کر 2,413 کروڑ روپے ہوگیا ہے،جبکہ آمدنی 6,646 کروڑ روپے سے 6.3 فیصد بڑھ کر 7,067 کروڑ روپے ہوگئی ۔EBITDA 12.59فیصد بڑھ کر 3,880 کروڑ روپے سے 4,369 کروڑ روپےہوگیا۔مارجن 58.4فیصد سے بڑھ کر 61.8فیصد ہو گیا۔

اے پی ایس ای زیڈ کتنا بڑا ہے۔

اڈانی پورٹس ملک میں نجی شعبے کی سب سے بڑی بندرگاہ کمپنی ہے۔ APSEZ ملک کا سب سے بڑا پورٹ ڈویلپر اور آپریٹر ہے جس کی 8 بندرگاہیں مشرقی ساحل پر اور 7 مغربی ساحل پر ہیں۔ مغربی ساحل کے بارے میں بات کریں تو، ان میں گجرات میں موندرا، ٹونا، دہیج اور ہزیرہ، گوا میں مورموگاو، مہاراشٹر میں دیگھی اور کیرالہ میں وِجنجم بندرگاہ شامل ہیں، جب کہ مشرقی ساحل پر، مغربی بنگال میں ہلدیا، اڈیشہ میں دھامرا اور گوپال پور، گنگاوارم میں شامل ہیں۔ آندھرا پردیش اور تامل ناڈو میں کرشنا پٹنم، کٹوپلی اور اینور اور پڈوچیری میں کرائیکل پورٹ ملک کی کل بندرگاہوں کے حجم میں ان کا 27 فیصد حصہ ہے۔ملک سے باہر کی بات کریں تو اے پی ایس ای زیڈ کنٹینر ٹرمینل 2 اسرائیل میں حیفہ پورٹ اور تنزانیہ میں دارالسلام پورٹ چلاتا ہے۔ کمپنی کولمبو، سری لنکا میں ایک ٹرانس شپمنٹ پورٹ بھی تیار کر رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read