Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


الجزیرہ کے نمائندے ہانی محمود کے مطابق غزہ کے شہری 2026 میں داخل ہوتے وقت سخت اسرائیلی پابندیوں، خوراک و ادویات کی قلت اور غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ادھر فلسطینی محکمۂ موسمیات نے آج سے شدید موسمی حالات کی وارننگ جاری کی ہے،

مقامی میڈیا کے مطابق امدادی کارروائیوں اور تفتیش کے پیش نظر کرانس مونٹانا کے اوپر نو فلائی زون بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔ سوئس نشریاتی ادارے آر ٹی ایس نے بتایا کہ دھماکہ بار کے بیسمنٹ میں ہوا، جس کی مجموعی گنجائش تقریباً 400 افراد کی بتائی جاتی ہے۔

سردیوں میں سر درد بڑھنے کی دیگر وجوہات میں ڈی ہائیڈریشن بھی شامل ہے۔ چونکہ اس موسم میں پیاس کم لگتی ہے، اس لیے لوگ پانی کم پیتے ہیں۔ خشک ہوائیں جسم کی نمی کو بھی کم کر دیتی ہیں، جس سے پانی کی کمی ہو جاتی ہے اور سر درد پیدا ہوتا ہے۔

خط میں وزیراعظم  مودی نے کیرالہ کی پرانی سیاسی روایت پر سخت تنقید بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں تک بی جے پی کے کارکنوں نے مشکل حالات میں جدوجہد کی، جب کہ ریاست کی سیاست پر ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف کا غلبہ رہا،

اندور میں آلودہ پانی کی وجہ سے ہونے والی اموات پر این سی پی (ایس پی) راجیہ سبھا کی رکن اسمبلی فوزیہ خان کا کہنا ہے کہ "یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے، اس کی مذمت کافی نہیں ہے، بچے مر رہے ہیں، آلودہ پانی لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ملک میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس سے ہمیں اس سے زیادہ فکر مند ہو۔"

اس کے جواب میں جیوتیرادتیہ سندھیا نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم مودی کی قیادت اور عوامی خدمت کے جذبے سے متاثر ہو کر ترقی یافتہ بھارت کے مشترکہ وژن کے لیے پوری طرح پُرعزم ہیں۔

ادھر دونوں کی شادی سے متعلق قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وجے دیوراکونڈا اور رشمیکا مندانا نے اکتوبر 2025 میں قریبی اہلِ خانہ کی موجودگی میں ایک نجی تقریب میں منگنی کر لی تھی،

پولیس کے ترجمان گیٹن لاتھین نے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکے کی وجہ فی الحال واضح نہیں ہو سکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں، جب کہ متعدد ہلاکتوں کی بھی تصدیق ہو چکی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ کچھ ماہرین نے بڑے پبلک پرائیویٹ ٹیکنالوجی شراکت داریوں میں شفافیت، احتساب اور گورننس پر سوالات بھی اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ نجی سرمایہ اے آئی انفراسٹرکچر کو تیزی سے آگے بڑھا سکتا ہے،

دھرو-NG کو محض ایک ہیلی کاپٹر نہیں بلکہ ایک ’لائف سیور‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ طبی ایمرجنسی میں دور دراز اور دشوار گزار علاقوں سے مریضوں کو ایئر ایمبولینس کے طور پر منتقل کرنے میں یہ انتہائی کارآمد ہوگا۔ قدرتی آفات جیسے سیلاب اور زلزلے کے دوران ریسکیو آپریشنز میں بھی اس کی تیز رفتاری اور مضبوط ڈیزائن اہم کردار ادا کرے گا۔