Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


صدر دروپدی مرمو 3 فروری کو لوک بھون سے ہوائی اڈے تک قافلے کے ساتھ جائیں گی اور پھر ہیلی کاپٹر کے ذریعے بالاسور کے لیے روانہ ہوں گی۔ وہ فقیربھون یونیورسٹی کی  کانووکیشن  میں مہمان خصوصی ہوں گی اور یونیورسٹی کے نئے تعمیر شدہ ہال کا افتتاح کریں گی۔

وزیر خزانہ نرملا سیتارامن اجلاس کے دوران ایک تفصیلی پریزنٹیشن کے ذریعے مرکزی بجٹ 2026 کی خصوصیات اور مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالیں گی۔ وہ بتائیں گی کہ یہ بجٹ کس طرح وکست بھارت 2047 کے ہدف کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

ایئرلائن نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے متاثرہ مسافر کو پانچ ہزار روپے کا ٹریول واؤچر دینے کی پیشکش کی، لیکن مسافر اس پر مطمئن نہیں ہوا۔ اس نے کنزیومر کورٹ سے رجوع کیا اور پانچ لاکھ روپے کے معاوضے کا مطالبہ کیا۔

پاکستان حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ قومی ٹیم کو ٹی20 ورلڈ کپ کھیلنے کی اجازت دی جاتی ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ کولمبو کے آر پریماداسا اسٹیڈیم میں 15 فروری کو بھارت کے خلاف ہونے والے میچ میں ٹیم شرکت نہیں کرے گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بس ٹرنیوکاکس بے کے قریب چل رہی تھی، جو فرنٹ لائن سے تقریباً پینسٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ حملے کی شدت کے باعث بس کو شدید نقصان پہنچا اور موقع پر ہی کئی افراد کی موت ہوگئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے زلزلے زمین کی سطح پر زیادہ شدت سے محسوس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بارہمولہ کے ساتھ ساتھ سری نگر، پلوامہ، شوپیاں اور چرارِ شریف سمیت آس پاس کے علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے واضح طور پر محسوس کیے گئے۔آزاد موسمی پورٹل کشمیر ویدر نے بھی اس زلزلے کی تصدیق کی ہے

ہفتے کے آغاز میں پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد کہا گیا تھا کہ پاکستان کی شرکت پر حتمی فیصلہ 30 جنوری یا 2 فروری کو ہوگا۔ لیکن یہ اعلان ایک دن پہلے ہی کر دیا گیا،

گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دہلی این سی آر میں ہونے والی تیز بارش کے بعد موسم مزید سرد ہو گیا ہے۔ صبح کے وقت کئی علاقوں میں گھنا کہرا چھایا رہا، جبکہ دن بھر برفیلی ہواؤں نے سردی کی شدت کو برقرار رکھا۔

ممتا بنرجی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مرکزی بجٹ میں مغربی بنگال کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے لیے ایک روپیہ تک مختص نہیں کیا گیا،

حکومت نے شہروں کو ان کی معاشی صلاحیت کی بنیاد پر ’سٹی اکنامک ریجن‘ کے طور پر شناخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ شناخت سیاحت، مینوفیکچرنگ، خدمات اور لاجسٹکس جیسے شعبوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔