Bharat Express DD Free Dish

Switzerland Crans Montana Bar Blast: نئے سال پر خوشی ماتم میں بدلی ،سوئٹزرلینڈ کے بار میں دھماکے سے 40 افراد ہلاک

مقامی میڈیا کے مطابق امدادی کارروائیوں اور تفتیش کے پیش نظر کرانس مونٹانا کے اوپر نو فلائی زون بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔ سوئس نشریاتی ادارے آر ٹی ایس نے بتایا کہ دھماکہ بار کے بیسمنٹ میں ہوا، جس کی مجموعی گنجائش تقریباً 400 افراد کی بتائی جاتی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں نئے سال کے جشن کے دوران ایک بار میں ہونے والے خوفناک دھماکے میں 40 افراد کی موت ہو گئی، جب کہ 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً ڈیڑھ بجے کرانس مونٹانا کے مشہور کانسٹیلیشن بار میں ہوا، جہاں نیو ایئر ایو کی تقریب جاری تھی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں بار کے اندر اور اطراف میں شدید آگ لگی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے۔ پولیس نے متاثرین کے اہل خانہ کے لیے ایک ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیا ہے۔دہشت گرد حملے کے خدشے پر وضاحت کرتے ہوئے پولیس نے واضح کیا ہے کہ فی الحال اس واقعے کو کسی حملے یا دہشت گردی سے جوڑنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ آگ لگنے اور دھماکے کی وجوہات کے بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، تاہم دہشت گرد حملے کا امکان خارج کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے پر سوئٹزرلینڈ کے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور اور تعلیم گائے پارمیلین نے ایکس پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ خوشی کا لمحہ پورے ملک کو ہلا دینے والے غم میں بدل گیا ہے اور وفاقی کونسل اس سانحے سے شدید صدمے میں ہے۔

بار میں سو سے زائد افراد موجود تھے
جنوب مغربی سوئٹزرلینڈ کے والیس کینٹن میں پولیس کے ترجمان گیٹن لاتھین نے بتایا کہ یہ بار سیاحوں میں بے حد مقبول ہے اور حادثے کے وقت بڑی تعداد میں لوگ نئے سال کا جشن منانے کے لیے وہاں موجود تھے۔ ان کے مطابق مرنے والوں میں زیادہ تر سیاح شامل ہونے کا خدشہ ہے جو تعطیلات کے دوران کرانس مونٹانا آئے ہوئے تھے۔ دھماکے کے وقت بار میں سو سے زیادہ افراد موجود تھے اور تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق امدادی کارروائیوں اور تفتیش کے پیش نظر کرانس مونٹانا کے اوپر نو فلائی زون بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔ سوئس نشریاتی ادارے آر ٹی ایس نے بتایا کہ دھماکہ بار کے بیسمنٹ میں ہوا، جس کی مجموعی گنجائش تقریباً 400 افراد کی بتائی جاتی ہے۔ پولیس اور تفتیشی ادارے واقعے کی ہر پہلو سے جانچ کر رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read