Bharat Express DD Free Dish

Rahmatullah




Bharat Express News Network


اب تک محمد تبریز صدیقی علی گڑھ سمیت چھ لیڈر پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔مانا یہ بھی جارہا ہے کہ پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری غلام رسول بلیاوی بھی پارٹی چھوڑ سکتے ہیں چونکہ انہوں نے بغاوت کا سر بلند کردیا ہے۔

پورے ملک میں وقف کی سب سے زیادہ زمین اتر پردیش میں ہے۔ اتر پردیش میں وقف جائیدادوں کا انتظام وقف بورڈ کرتا ہے۔ یوپی کے اقلیتی بہبود کے وزیر دانش آزاد نے وقف جائیدادوں سے متعلق ڈیٹا جاری کیا ہے۔

منوج کمار کی آخری رسومات کل ادا کی جائیں گی۔ اداکار منوج کمار کی جسد خاکی آج اسپتال میں رکھی جائے گی۔ منوج کمار کا بیٹا ان کے ساتھ ہے لیکن کچھ قریبی رشتہ دار بیرون ملک رہتے ہیں۔ آج بیرون ملک سے رشتہ دار دیر رات تک ہندوستان لوٹ رہے ہیں۔

پی ایم مودی نےکہاکہ کئی سالوں سے وقف نظام میں شفافیت اور جوابدہی کا فقدان تھا، جس نے خاص طور پر مسلم خواتین، غریب مسلمانوں اور پسماندہ برادری کو نقصان پہنچایا۔ اب جو قوانین پاس ہوئے ہیں وہ اس نظام کو مزید شفاف بنائیں گے۔

اترپردیش کے سلطانپور سے تعلق رکھنے والے اور پہلی نسل کے وکیل، سنگھ کو چھتیس گڑھ کے لیے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر تعینات کیا گیا تھا اور وہ مدھیہ پردیش، اترپردیش اور جھارکھنڈ کے لیے اسٹینڈنگ کونسل رہے، اور یونین آف انڈیا کے لیے سینئر پینل کونسل کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

سینئر وکیل آدیش اگروال نے بتایاکہ میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں جس میں ججوں کو سرکاری ویب سائٹ پر اپنے اثاثوں کا اعلان کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس سے عوام کا اعتماد بحال ہو گا جو ماضی کے واقعات کی وجہ سے تھوڑا سا کم ہو گیا ہے۔

بلیاوی نے کہاکہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ اب فرقہ پرست اور سیکولر میں کوئی فرق نہیں ہے۔ 31 صفحات کی یہ تجویز بھی جے پی سی کو ادار شرعیہ نے دی تھی۔ ہم نے اسے نتیش کمار، ٹی ڈی پی سربراہ چندرابابو نائیڈو اور جے پی سی کے ارکان کو بھی دیا تھا۔

کرن رجیجو ابتدائی طور پر اس بل کی خاصیت اور جے پی سی کی کارکردگی کی تفصیلات پیش کررہے ہیں ۔اس کے بعد ایوان کے لیڈران اس پر بحث کریں گے اور اپنی اپنی بات رکھیں گے۔ حکمراں جماعت کی طرف سے جے پی نڈا،سدھانشو تریویدی سمیت کئی لیڈران اس پر بات رکھیں گے۔

 سونیا گاندھی نے دعویٰ کیاکہ کل وقف ترمیمی بل، 2025 لوک سبھا میں منظور ہوا اور آج اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا جا رہا ہے۔ بل کو من مانی طور پر منظور کر الیا گیا۔ ہماری پارٹی کا موقف واضح ہے۔ یہ بل خود آئین پر ایک کھلا حملہ ہے۔

فیصلے کے دوران چیف جسٹس سنجیو کھنہ  نے کہا کہ  جو لوگ اس نوکری سے پہلے کسی بھی سرکاری محکمے میں کام کر رہے تھے وہ وہاں واپس جانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ ایسی درخواستوں پر 3 ماہ کے اندر غور کیا جانا چاہیے۔