Urdu Conclave 2026

Rahmatullah




Bharat Express News Network


بابر اعظم نے لکھا کہ ’ڈئیر فینز، میں نے قومی ٹیم کی کپتانی سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔  بطور کھلاڑی کردار ادا کرنے پر توجہ دینا اور فیملی کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہوں۔قومی ٹیم کی قیادت کرنا میرے لیے ایک اعزار کی بات ہے لیکن اب یہ وقت ہے کہ میں بطور کپتان مستعفی ہو کر اپنے کھیل پر توجہ دوں۔

سوامی چیتنیا کیرتی جنہیں اوشو انٹرنیشنل میڈیٹیشن ریزورٹ سے نکال دیا گیا ہے اور اب وہ 'باغی سنیاسین' گروپ کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے اوشو ٹائمز کے ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور انہیں ان کا دائیں ہاتھ کا آدمی سمجھا جاتا تھا۔ چیتنیا کیرتی نے 1974 میں آشرم میں شمولیت اختیار کی اور کم از کم 15 سال تک اس کے ساتھ رہے۔

جنرل دویدی نے کہا کہ جب تک حالات بحال نہیں ہوتے، حالات حساس رہیں گے اور ہم کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ آرمی چیف نے کہا کہ جہاں تک چین کا تعلق ہے تو وہ کافی عرصے سے ہمارے ذہنوں میں تجسس پیدا کر رہا ہے۔

اس مرحلے میں سب سے اب تک سب سے زیادہ  ادھمپور میں ووٹنگ ہوئی ہے جہاں 64.43فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ وہیں سب سے کم بارہمولہ میں ہوئی ہے جہاں تین بجے تک 46.09فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔دیگر اضلاع میں بھی ووٹنگ کچھ حدتک بہتر دکھائی دے رہی ہے۔

مرکزی صحت سکریٹری  اپوروا چندرا نے کہا کہ "حکومتی صحت کے اخراجات میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ جیب سے باہر کے اخراجات میں کمی آئی ہے جو کہ ایک اچھی علامت ہے۔" انہوں نے روشنی ڈالی کہ صحت کے کل اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے جو صحت کے تئیں حکومت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

جسٹس گوائی نے کہا کہ ہم سیکولر نظام میں ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات ہندو ہوں یا مسلم... کارروائی ہونی چاہیے۔ اس پر مہتا نے کہا کہ یقیناً ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس کے بعد جسٹس وشواناتھن نے کہا کہ اگر دو غیر قانونی ڈھانچے ہیں اور آپ کسی جرم کے الزام کی بنیاد پر ان میں سے صرف ایک کو منہدم کرتے ہیں تو سوال ضرور اٹھیں گے۔

چیف جسٹس نے زور دیا کہ ان کی ذاتی ساکھ خطرے میں ہے ۔ اس لئے عدالت کو مقدمات کی فہرست کے لیے معیاری طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ میری ذاتی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ مجھے سب کے لیے معیاری اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔

دہلی کے شاہی عیدگاہ  پارک میں رانی لکشمی بائی کا مجسمہ نصب کرنے کے تنازعہ پر آج دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی ۔ سماعت کے دوران عدالت نے سخت تبصرہ کیا اور کہا کہ رانی لکشمی بائی کے مجسمہ سے نماز میں کیا دقت آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم 1857 کی جنگ اور اس میں رانی لکشمی بائی کے کردار کو فراموشش نہیں کرسکتے۔

ناصر کینانی نے کہا کہ ’صہیونی حکومت حالیہ برسوں میں متعدد شکستوں کی وجہ سے مزاحمتی گروپوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ’لبنان میں فضائی حملوں اور امریکی بموں کا استعمال دیکھا گیا۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ ان کے فوجی حالیہ مہینوں میں اس مشن کے لیے تربیت اور تیاری کر رہے تھے۔اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اس گروپ پر اس وقت تک حملے جاری رکھے گا جب تک کہ سرحد پر بے گھر ہونے والے اسرائیلیوں کے لیے اپنے گھروں کو واپس جانا محفوظ نہ ہو جائے۔