Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi re-issues open debate call: راہل گاندھی نے وزیرداخلہ امت شاہ کے چیلنج کو کیا قبول، کہا-’’کسی بھی پلیٹ فارم پر، کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ وزیراعظم سے بحث کے لیے تیار ہوں‘‘

امت شاہ نے ہریانہ کے کرنال میں بی جے پی کی ’لوک تنتر بچاؤ، اَراجکتا ہٹاؤ‘ مہم کے تحت ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی کو پارلیمنٹ میں بحث کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر راہل گاندھی ذمہ دارانہ انداز میں بحث کرنا چاہتے ہیں اور ان کے خدشات میں سچائی، ٹھوس مواد اور منطق ہے تو انہیں پارلیمنٹ میں آکر اس پر بات کرنی چاہیے۔

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ کھلی بحث کے اپنے چیلنج کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے اپیل کی ہے کہ وہ وزیراعظم کو اس بحث کے لیے راضی کریں اور انہیں ’’الجھن میں نہ ڈالیں‘‘۔ راہل گاندھی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ وہ کسی بھی پلیٹ فارم پر، کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ وزیر اعظم کے ساتھ کھلی بحث کے لیے تیار ہیں اور اس سلسلے میں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

امت شاہ سے وزیر اعظم کو راضی کرنے کی اپیل

راہل گاندھی نے ایکس پر امت شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا، ’’امت شاہ جی، مودی جی کو الجھن میں نہ ڈالیں۔ بس انہیں میرے ساتھ کھلی بحث کے لیے راضی کریں۔ کسی بھی پلیٹ فارم پر، کسی بھی وقت۔ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ راہل گاندھی کا یہ بیان امت شاہ کی جانب سے ایک روز قبل ان کے چیلنج کا جواب دیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ امت شاہ نے کانگریس لیڈر کو پارلیمنٹ کے اندر اس معاملے پر بحث کرنے کا چیلنج دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کانگریس باضابطہ طور پر درخواست کرے تو حکومت خصوصی پارلیمانی اجلاس بلانے کے لیے تیار ہے۔

امت شاہ نے پارلیمنٹ میں بحث کا دیا تھا چیلنج

امت شاہ نے ہریانہ کے کرنال میں بی جے پی کی ’لوک تنتر بچاؤ، اَراجکتا ہٹاؤ‘ مہم کے تحت ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی کو پارلیمنٹ میں بحث کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر راہل گاندھی ذمہ دارانہ انداز میں بحث کرنا چاہتے ہیں اور ان کے خدشات میں سچائی، ٹھوس مواد اور منطق ہے تو انہیں پارلیمنٹ میں آکر اس پر بات کرنی چاہیے۔ امت شاہ نے کہا تھا، ’’اگر آپ ذمہ دارانہ بحث کرنا چاہتے ہیں اور آپ کے خدشات میں سچائی، ٹھوس مواد اور منطق ہے تو پارلیمنٹ کے اندر آکر بات کیجیے۔ آئیے، آمنے سامنے ہوکر بات کرتے ہیں۔ لیکن آپ جواب کا سامنا نہیں کر پائیں گے اور ہمیشہ کی طرح بھاگ جائیں گے۔‘‘

ایس آئی آر پر بی جے پی اور اپوزیشن آمنے سامنے

دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ بیان بازی انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر بی جے پی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بڑھتی سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ راہل گاندھی نے اس سے قبل منگل کو سوشل میڈیا پر ایک پول کے ذریعے نوجوانوں سے پوچھا تھا کہ کیا وہ ان کی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی کھلی بحث دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کے سینئر رہنماؤں راج ناتھ سنگھ، نتن گڈکری، شیوراج سنگھ چوہان اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو بھی ٹیگ کرتے ہوئے ان سے وزیر اعظم کو چیلنج قبول کرنے کے لیے راضی کرنے کی اپیل کی تھی۔

مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر کے خلاف احتجاج

ایس آئی آر کے معاملے پر سیاسی تنازع بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ بی جے پی کے رہنما ریلیوں کے ذریعے اس عمل کا دفاع کر رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتیں مختلف ریاستوں میں احتجاج کرکے اسے واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ کرنال میں امت شاہ کی ریلی کے دوران کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا، وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور انڈیا اتحاد کے دیگر رہنماؤں نے بنگلورو کے فریڈم پارک میں احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ایس آئی آر واپس لینے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ادھر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے بھی 7 نومبر کو کوچی میں ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ ماہ جنتر منتر پر احتجاج کی کوشش کے دوران دہلی میں پارٹی رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ پارٹی کا پہلا بڑا مظاہرہ ہوگا۔ ایس آئی آر کا معاملہ اب بی جے پی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان جمہوری اداروں اور پارلیمانی طریقہ کار سے متعلق الزامات اور جوابی الزامات کا اہم موضوع بن گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read