Bharat Express DD Free Dish

Lucknow & Andaman Islands are symbols of courage: لکھنؤ اور انڈمان برطانوی اقتدار کے خلاف جرأت، قربانی اور حب الوطنی کی علامت: ڈاکٹر دنیش شرما

سیلولر جیل آزادی کے متوالوں پر ہونے والے ظلم، اذیت اور ان کی قربانیوں کی داستان سناتی ہے۔ ڈاکٹر دنیش شرما کے مطابق 1909 سے 1938 کے درمیان انڈمان کی سیلولر جیل میں قید رہنے والے 585 انقلابیوں میں سے 18 کا تعلق اتر پردیش سے تھا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ تحریک آزادی میں اتر پردیش کے لوگوں نے بھی نمایاں قربانیاں پیش کیں۔

لکھنؤ/شری وجے پورم: انڈمان و نکوبار جزائر کے لیفٹیننٹ گورنر، سابق رکن راجیہ سبھا اور اترپردیش کے سابق نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا ہے کہ انڈمان اور لکھنؤ دونوں ہی برطانوی اقتدار کے خلاف جرأت، قربانی اور حب الوطنی کی علامت رہے ہیں۔ انڈمان کی سیلولر جیل جہاں آزادی کے متوالوں پر ڈھائے گئے مظالم، انہیں دی جانے والی اذیتوں اور ان کی قربانیوں کی داستان بیان کرتی ہے، وہیں لکھنؤ 1857 کی جنگ آزادی کا ایک اہم مرکز تھا، جس نے انگریزوں کو سخت چیلنج دیا تھا۔ 1857 میں آزادی کی جو شمع روشن ہوئی تھی، انڈمان کی جیل نے اس کے لیے دی گئی بے شمار قربانیوں کو اپنے اندر محفوظ کر رکھا ہے۔

سیلولر جیل انقلابیوں پر مظالم کی علامت

کالی چرن ڈگری کالج میں تحریک آزادی میں انڈمان و نکوبار کی اہمیت کے موضوع پر منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ قدرتی وسائل اور حسن سے مالا مال انڈمان کے جزیرے پر واقع جیل کو برطانوی حکومت نے انقلابیوں کو کچلنے اور انہیں اذیتیں دینے کے لیے استعمال کیا تھا۔ یہاں ویر ساورکر اور بٹوکیشور دت جیسے مجاہدین آزادی کو قید رکھا گیا اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ برطانوی حکومت انقلابیوں کو قومی دھارے سے دور رکھنے کے لیے اس جیل کا استعمال کرتی تھی۔ انہیں سخت سزائیں دینے کے مقصد سے یہاں جلاوطنی کی ایک بستی قائم کی گئی تھی، اسی وجہ سے اسے ’کالا پانی‘ بھی کہا جاتا تھا۔ انڈمان کی جیل سیاسی قیدیوں پر ظلم و ستم کا ایک بڑا مرکز رہی ہے۔

انڈمان اور لکھنؤ کے درمیان ادبی تعلقات

انہوں نے بتایا کہ انڈمان اور لکھنؤ کے درمیان ادبی روابط بھی رہے ہیں۔ انڈمان کی جلاوطنی کی بستی اور قیدیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تفصیلات پر مشتمل لکھنؤ کے رہنے والے محمد جعفر کی 1892 میں تحریر کردہ کتاب ’’بلیک واٹر: دی اسٹرینج ہسٹری آف پورٹ بلیئر‘‘ کی اشاعت بھی لکھنؤ کے معروف ناشر منشی نول کشور پریس نے کی تھی۔ ڈاکٹر دنیش شرما کے مطابق 1909 سے 1938 کے درمیان انڈمان کی سیلولر جیل میں قید رہنے والے 585 انقلابیوں میں سے 18 کا تعلق اتر پردیش سے تھا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ تحریک آزادی میں اتر پردیش کے لوگوں نے بھی نمایاں قربانیاں پیش کیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read