لکھنؤ: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرنے کا چیلنج دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس معاملے پر بحث کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اسے کچھ بھی چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔ شاہ نے اس موضوع پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کی پیش کش بھی کی اور اپوزیشن پر پارلیمانی کارروائی میں خلل ڈالنے کا الزام عائد کیا۔ لکھنؤ میں منعقدہ بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا، ’’راہل بابا، میں آپ دونوں، یعنی آپ اور اکھلیش یادو کو یہیں اور ابھی چیلنج کرتا ہوں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ آئیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلاتے ہیں، لیکن ان کا وہاں بات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وہ پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دیتے، بلکہ ہنگامہ آرائی کرتے ہیں۔‘‘
انتخابی شکست کے بعد ووٹ چوری کے الزامات: امت شاہ
وزیر داخلہ نے راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کے دیگر رہنماؤں پر انتخابی شکست قبول کرنے کے بجائے ووٹ چوری کے الزامات لگانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی انتخابی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو اپنی شکست کا جائزہ لینا چاہیے۔ امت شاہ نے کہا کہ ہریانہ میں بی جے پی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرکے حکومت بنائی، جبکہ مہاراشٹر میں این ڈی اے نے سب سے زیادہ نشستوں کے ساتھ اقتدار حاصل کیا۔ ان کے مطابق، بہار میں پہلی بار بی جے پی کا وزیر اعلیٰ بنا، دہلی میں تین دہائیوں بعد بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی اور پڈوچیری میں پارٹی نے دوبارہ حکومت بنائی۔ انہوں نے آسام میں 100 نشستیں جیت کر مسلسل تیسری کامیابی حاصل کرنے اور مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی پارٹی کو شکست دینے کا بھی دعویٰ کیا۔ شاہ نے کہا، ’’جب کوئی ٹیم میچ یا کھیل ہار جاتی ہے تو اسے بیٹھ کر مزید مشق کرنی چاہیے، یہی توقع کی جاتی ہے۔ لیکن راہل بابا کا معاملہ مختلف ہے۔ اکھلیش اور ان کے ساتھ انڈیا اتحاد کے دیگر رہنماؤں کا بھی یہی حال ہے۔ شکست قبول کرنے کے بجائے انہوں نے امپائر پر بے ایمانی کا الزام لگانا شروع کردیا اور کہا کہ ووٹ چوری کیے گئے ہیں۔‘‘
اتر پردیش میں تیسری بار حکومت بنانے کا دعویٰ
امت شاہ نے اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت کو مضبوط قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی 2027 کے اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت کے ساتھ مسلسل تیسری بار اقتدار میں آئے گی۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ آئندہ انتخابی مقابلے کے لیے پوری یکسوئی کے ساتھ تیاری کریں۔ شاہ نے کہا کہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں اتر پردیش کے انتخابی نتائج کو لے کر کافی قیاس آرائیاں ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگ ان سے پوچھتے ہیں کہ یوپی میں کیا ہوگا تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت اتنی مضبوطی سے قائم ہے جیسے ’’انگد کا پاؤں‘‘، جسے کوئی ہلا نہیں سکتا۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو یقین دلایا کہ انہیں اس سلسلے میں کسی طرح کا شک نہیں ہونا چاہیے کہ بی جے پی ایک بار پھر بھاری اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔ واضح رہے کہ اتر پردیش اسمبلی میں کل 403 نشستیں ہیں اور 2027 کے انتخابات میں بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان اہم مقابلے کی توقع ہے، جبکہ کانگریس بھی ریاست میں اپنی سیاسی بنیاد کو وسعت دینے کی کوشش کررہی ہے۔ بی جے پی کارکنوں کو انتخابی تیاریوں کا پیغام دیتے ہوئے امت شاہ نے مہابھارت کے کردار ارجن کی مثال دی اور کہا کہ پارٹی کارکنوں کو اپنے ہدف پر پوری توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 41 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے اور ریاست میں دوسری بار حکومت بنانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ شاہ نے کارکنوں سے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پارٹی تیسری بار حکومت بنانے کے لیے فیصلہ کن اور بھاری اکثریت حاصل کرے۔
نکسل ازم کے خاتمے کو بی جے پی کی کامیابی قرار دیا
امت شاہ نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ملک نکسل ازم سے آزاد ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسل ازم کا خاتمہ بی جے پی کی ذمہ داری تھی، حالانکہ ابتدا میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ کام ممکن نہیں ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق، کانگریس کے کئی رہنماؤں نے بھی نکسل ازم کے خاتمے کی کوششوں پر سوال اٹھائے تھے اور انہیں بتایا تھا کہ یہ ایسا چیلنج ہے جسے پورا نہیں کیا جاسکتا۔ شاہ نے کہا، ’’کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ ملک سے نکسل ازم کا خاتمہ ہوجائے گا۔ کانگریس کے کئی رہنماؤں نے مجھ سے ذاتی طور پر پوچھا کہ آپ کس مصیبت میں پڑ گئے ہیں، یہ کوئی انتخابی معاملہ نہیں ہے اور ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں کی حیثیت سے ہمارا ماننا ہے کہ دہشت گردوں اور نکسلائیوں کے ساتھ بقائے باہمی ممکن نہیں۔ اس خطرے کو ختم کرنا ہماری ذمہ داری تھی اور آج ہماری آنکھوں کے سامنے ملک نکسل ازم سے آزاد ہوچکا ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



