نئی دہلی: برطانیہ کے سابق وزیر اعظم رشی سونک نے منگل کو ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور عوامی خدمات میں 25 سال مکمل کرنے پر انہیں مبارک باد دی۔ انہوں نے ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان شراکت داری کی بھی تعریف کی۔ سنک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیر اعظم مودی کے ساتھ اپنے سابقہ تعاون کو یاد کیا اور ان کے عزم، محنت اور توانائی کو قابلِ تقلید قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی قیادت میں ہندوستان اور برطانیہ کے تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کی امید ظاہر کی۔ رشی سنک نے لکھا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی، آج نئی دہلی میں آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔ عوامی خدمات میں 25 سال مکمل کرنے پر مبارک باد، یہ ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ جب میں وزیر اعظم تھا تو آپ کے ساتھ کام کرنا خوشگوار تجربہ رہا۔ آپ کا عزم، آپ کی محنت اور آپ کی توانائی ہم سب کے لیے ایک مثال ہے۔ آپ کی قیادت میں ہندوستان اور برطانیہ کے تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ غیر یقینی صورت حال والی دنیا میں تجارت، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں ہمارے دونوں ممالک کا زیادہ تعاون انتہائی اہم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے برسوں میں برطانیہ اور ہندوستان کے تعلقات مزید قریبی ہوں گے۔‘‘
Prime Minister @narendramodi great to see you in New Delhi today. Congratulations on 25 years in public service, a remarkable achievement. It was a pleasure to work with you when I was Prime Minister. Your commitment, your work ethic, your energy is an example to us all.
The UK India relationship is going from strength to strength under your leadership. Our two countries cooperating more on trade, tech and AI is vital in a less predictable world. I know that Britain and India will continue to grow ever closer in the years ahead 🇬🇧🇮🇳
— Rishi Sunak (@RishiSunak) October 13, 2026
عالمی نظام میں تبدیلی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورت حال
اس سے قبل دن میں رشی سنک نے کہا کہ ہندوستان اور خلیجی ممالک جیسے ملک بدلتے ہوئے عالمی نظام میں تیزی سے اپنا راستہ خود متعین کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممالک ہمیشہ امریکہ یا چین کے موقف سے اتفاق نہیں کریں گے، جو عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔ قومی دارالحکومت میں منعقدہ بلومبرگ نیو اکانومی فورم 2026 کے دوران ’غیر یقینی صورت حال کا خاتمہ‘ کے عنوان سے ایک پینل مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے سنک نے کہا کہ دنیا کثیرالجہتی اور قواعد پر مبنی اس نظام سے دور ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس نے عالمی معیشت کو تشکیل دیا تھا۔ ان کے مطابق، اس تبدیلی نے غیر یقینی صورت حال اور نئے خطرات کو جنم دیا ہے۔ سنک نے کہا، ’’ہم سب نے ایک ایسے کثیرالجہتی نظام میں سرمایہ کاری اور کام کرتے ہوئے پرورش پائی، جو قواعد پر مبنی تھا اور بڑی حد تک امریکہ کے ذریعے نافذ کیا جاتا تھا۔ صدر ٹرمپ اس صورت حال کی وجہ نہیں بلکہ اس کی علامت ہیں۔ اب ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں یہ واضح نہیں کہ عالمی نظام کس شکل میں مستحکم ہوگا، اور اس سے جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورت حال اور خطرات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے چین کے ابھرنے کو بھی عالمی معیشت کی ایک اہم نئی خصوصیت قرار دیا اور کہا کہ چین اقتصادی، فوجی اور تکنیکی شعبوں میں امریکہ کے برابر کا حریف بن چکا ہے۔ سنک کے مطابق، ہندوستان اور خلیجی ممالک جیسے ملک اب اپنے مفادات کے مطابق آزادانہ فیصلے کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممالک ضروری نہیں کہ واشنگٹن یا بیجنگ کے موقف کی پیروی کریں، بلکہ اپنی ترجیحات کے مطابق اقدامات کریں گے۔
ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر پیش رفت
دریں اثنا، ہندوستان اور برطانیہ نے اپنے جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے (سی ای ٹی اے) کے تحت ٹیرف رعایتوں کے استعمال سے متعلق سالانہ اعداد و شمار کا تبادلہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کا مقصد تجارتی معاہدے پر بہتر طریقے سے عمل درآمد کو یقینی بنانا اور زیادہ سے زیادہ کاروباری اداروں، بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں، کو اس کے فوائد پہنچانا ہے۔ یہ فیصلہ پیر کو نئی دہلی میں ہندوستان-برطانیہ مشترکہ اقتصادی و تجارتی کمیٹی (جیٹکو) کے 16ویں اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور برطانیہ کے سکریٹری آف اسٹیٹ برائے کاروبار، اختراع و سائنس جوناتھن رینالڈز نے شرکت کی۔ دونوں رہنماؤں نے 15 جولائی 2026 کو معاہدہ نافذ ہونے کے بعد سے ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



