نئی دہلی: دہلی میں گرمی ہو، سردی ہو یا بارش کا موسم، پانی لوگوں کی بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن جب راجدھانی کے شہریوں کو پینے اور روزمرہ کے کاموں کے لیے پانی حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے تو سوال اٹھنا فطری ہے۔ دہلی کے کئی علاقوں میں پانی کی قلت کے درمیان اب ٹینکروں کے ذریعے ہونے والی سپلائی بھی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ ایک طرف لوگ پانی کے لیے پریشان ہیں تو دوسری طرف یہ الزامات سامنے آ رہے ہیں کہ کچھ لوگ اسی مجبوری کو کمائی کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔ پانی کی قلت کے معاملے پر دہلی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بھی الزام تراشی جاری ہے۔ حکومت پانی کی دستیابی اور سپلائی سے متعلق مسائل کی جانب اشارہ کرتی ہے، جبکہ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس بحران کے پیچھے ٹینکر مافیا اور بدعنوانی کا کھیل بھی ہو سکتا ہے۔ ان الزامات کے درمیان بھارت ایکسپریس کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ دہلی کے مختلف علاقوں میں پانی کے ٹینکر کس طرح دستیاب ہو رہے ہیں اور ان کے لیے کتنی رقم طلب کی جا رہی ہے۔
خفیہ کیمرے میں کیا سامنے آیا؟
بھارت ایکسپریس کے انڈرکور رپورٹر راجو گپتا نے سب سے پہلے کیشوپور میں واقع دہلی جل بورڈ کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کا رخ کیا۔ یہاں تعمیراتی کام کے لیے روزانہ دو ٹینکر پانی کی ضرورت بتاتے ہوئے سپلائی کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔ گفتگو کے دوران وہاں موجود ایک ملازم نے دو ٹینکروں کے لیے 2200 روپے کی قیمت بتائی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر میٹھا پانی چاہیے تو 400 روپے اضافی ادا کرنے ہوں گے۔ جب پولیس سے متعلق سوال کیا گیا تو ملازم نے جواب دیا کہ وہ پولیس کو خود سنبھال لے گا۔ اس گفتگو نے پانی کی سپلائی کے انتظامات کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ جانچ اور متعلقہ محکمے کا موقف سامنے آنا بھی ضروری ہے۔ اس کے بعد تحقیقاتی ٹیم مغربی وہار کے پیرا گڑھی میں واقع دہلی جل بورڈ کے بوسٹر پمپنگ اسٹیشن پہنچی۔ یہاں گفتگو کے دوران ایک شخص نے بتایا کہ ایک ٹینکر میں 5000 لیٹر پانی آتا ہے اور اس کی قیمت 1300 روپے ہے۔ دو ٹینکروں کے لیے 2600 روپے طلب کیے گئے۔ یہاں دستیاب پانی کو میٹھا پانی بتایا گیا۔ تحقیق کا اگلا مرحلہ جنک پوری کے ڈی بلاک میں واقع دہلی جل بورڈ کے واٹر ایمرجنسی دفتر کا تھا۔ یہاں ٹینکر کا انتظام کرنے کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ گفتگو کے دوران ایک شخص نے بتایا کہ ٹینکروں میں جی پی ایس نصب ہیں اور اس نے ’لکی‘ نامی شخص کے ذریعے پانی کے ٹینکر دستیاب کرانے کی بات کہی۔ اسی دفتر کے دروازے پر ایک اور سپلائر بھی ملا۔ اس نے روزانہ دو ٹینکر فراہم کرنے کی پیش کش کی اور ایک ٹینکر کے لیے 1200 روپے طلب کیے۔ مختلف مقامات پر سامنے آنے والی قیمتوں اور گفتگو نے پانی کی سپلائی کے نظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔
سونیا وہار میں جی پی ایس ٹریکنگ کا ذکر
بھارت ایکسپریس کی ٹیم نے اپنی تحقیق جاری رکھتے ہوئے سونیا وہار میں واقع دہلی جل بورڈ کے واٹر ایمرجنسی دفتر کا رخ کیا۔ یہاں ٹینکر کا انتظام کرنے کے بارے میں پوچھنے پر ایک شخص نے فون پر بات کرنے اور کوئی دوسرا راستہ نکالنے کی بات کہی۔ گفتگو میں یہ بھی بتایا گیا کہ اب ٹینکروں پر جی پی ایس لگائے جا رہے ہیں اور ان کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اسی گفتگو کے دوران ایک ٹینکر کے لیے 2000 روپے کی قیمت بتائی گئی۔ اس صورت حال نے یہ سوال پیدا کیا کہ سرکاری نظام سے وابستہ مقامات کے آس پاس ٹینکروں کی سپلائی کس طریقۂ کار کے تحت ہو رہی ہے اور کیا اس میں مقررہ ضوابط کی پابندی کی جا رہی ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ محض کسی گفتگو میں قیمت بتائے جانے سے غیر قانونی کاروبار ثابت نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ٹینکروں کے ذرائع، سپلائی کی اجازت، ادائیگیوں اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ ضروری ہے۔
روہنی میں ’اندر سے سیٹنگ‘ کا دعویٰ
تحقیقاتی ٹیم جب روہنی کے سیکٹر 23 میں دہلی جل بورڈ کے دفتر پہنچی تو یہاں بھی ٹینکر کی فراہمی کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ رپورٹر کے سوال پر ایک شخص نے ایک ٹینکر کے لیے 1000 روپے طلب کیے۔ گفتگو کے دوران اس نے یہ بھی کہا کہ اس کے لیے اندر سے سیٹنگ کرنی پڑتی ہے۔ یہ دعویٰ اہم ہے، کیونکہ اگر کسی سرکاری نظام میں ٹینکروں کی سپلائی کے لیے غیر مجاز لین دین یا ملازمین کی ملی بھگت ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر عام لوگوں پر پڑ سکتا ہے۔ تاہم، اس گفتگو کی بنیاد پر کسی شخص یا محکمے کی شمولیت کو حتمی طور پر طے کرنے سے پہلے حقائق کی تصدیق اور متعلقہ فریقوں کا جواب ضروری ہوگا۔
منگول پوری میں بھی ٹینکر کی قیمت 1000 روپے بتائی گئی
تحقیق کا آخری پڑاؤ منگول پوری تھا۔ یہاں انڈرکور رپورٹر نے پانی کے ٹینکر کی دستیابی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ گفتگو کے دوران ایک ٹینکر کی قیمت 1000 روپے بتائی گئی۔ ساتھ ہی پانی سے بھرا ہوا ٹینکر فراہم کرنے کی بات بھی کہی گئی۔ کیشوپور، پیرا گڑھی، جنک پوری، سونیا وہار، روہنی اور منگول پوری میں ہونے والی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف مقامات پر ٹینکروں کی قیمتوں میں فرق سامنے آیا۔ کہیں ایک ٹینکر کے لیے 1000 روپے طلب کیے گئے تو کہیں یہی قیمت 2000 روپے یا اس سے زیادہ بتائی گئی۔ تاہم، ان قیمتوں کا موازنہ کرتے وقت پانی کے معیار، ٹینکر کی گنجائش، سپلائی کے ذریعے اور فاصلے جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ جاننا ضروری ہے کہ متعلقہ ٹینکر مجاز تھے یا نہیں اور بتائی گئی قیمتیں کسی مقررہ نظام کے تحت وصول کی جا رہی تھیں یا نہیں۔
پانی کے لیے پریشان عوام کو راحت کب ملے گی؟
دہلی میں پانی کی قلت کا اثر صرف گھروں کے باورچی خانوں تک محدود نہیں رہتا۔ پانی کی کمی کے باعث نہانے، صفائی، کھانا پکانے اور روزمرہ کے دیگر ضروری کاموں میں بھی دشواری ہوتی ہے۔ جن خاندانوں کے پاس اضافی پانی خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں، ان کی پریشانیاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ ایسے میں اگر پانی کی سپلائی کے نام پر قواعد کو نظرانداز کیا جا رہا ہے تو اس کا سب سے زیادہ خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ بھارت ایکسپریس کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کی اس تحقیق میں سامنے آنے والی گفتگو نے ٹینکروں کی سپلائی کے نظام، ان کی قیمتوں اور مبینہ اندرونی ملی بھگت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ محکمے ان الزامات کی غیر جانب دارانہ جانچ کریں اور واضح کریں کہ ٹینکروں کو پانی کہاں سے مل رہا ہے، سپلائی کا ذمہ دار کون ہے اور آیا مقررہ قواعد کی پابندی کی جا رہی ہے یا نہیں۔ اگر کسی بھی سطح پر بے ضابطگی پائی جاتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں میں باقاعدہ اور شفاف سپلائی کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ آخر پانی ایسی سہولت نہیں ہے جس کے لیے لوگوں کو ہر روز پریشان ہونا پڑے۔ یہ ہر شہری کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس لیے سب سے اہم سوال یہی ہے کہ دہلی میں پانی کی قلت کے دوران ٹینکروں کی سپلائی کا پورا نظام کس طرح کام کر رہا ہے اور کیا ذمہ دار ادارے عوام کو راحت پہنچانے کے لیے ضروری اقدامات کریں گے؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

