Bharat Express DD Free Dish

India foreign policy

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے پاکستان کو اسی کی زبان میں منہ توڑ جواب دیا۔ جب ایک پاکستانی صحافی نے پریس بریفنگ کے دوران بھارت پر دہشت گردی کے بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے سوال پوچھنے کی کوشش کی، تو ڈاکٹر جے شنکر نے انہیں ایک ہی جملے سے لاجواب کر دیا: "ایک دہشت گرد ملک مجھ سے یہ سوال پوچھ رہی ہے۔"

جی-7 رہنماؤں نے عالمی سطح پر منشیات کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور سرحد پار منظم جرائم کے خلاف مشترکہ کارروائی تیز کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ اعلامیے میں سمندری سلامتی مضبوط بنانے، مجرمانہ مالیاتی نیٹ ورک توڑنے اور سرکاری و نجی اداروں میں جرائم پیشہ عناصر کی دراندازی روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کا اعلان کیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان 26 مئی کو کواڈ ممالک ہندوستان، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کرے گا۔ اجلاس میں انڈو پیسیفک کی بدلتی سکیورٹی صورتحال اور مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی سمیت کئی اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

وزیراعظم نریندر مودی اور صدر اسحاق ہرزوگ نے صدارتی گارڈن میں ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم کے تحت پودا بھی لگایا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے صدر ہرزوگ کو بھارت کے دورے کی باضابطہ دعوت بھی دی۔

ہندوستان کے عوام فلسطینی مسئلے کو محض ایک جغرافیائی یا سیاسی معاملہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور انسانی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ ہندوستان کی روح ہمیشہ مذہب، جغرافیہ یا سیاسی مصلحت سے بالاتر ہو کر مظلوموں کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ ہندوستان کا یہی تہذیبی مزاج اپنی قیادت کو ناانصافی کے خلاف سچ اور جرات کے ساتھ بولنے کا تقاضا کرتا ہے۔

دورے کے دوران وزیراعظم مودی اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کریں گے اور اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب بھی کریں گے۔ وہ کنیسٹ سے خطاب کرنے والے پہلے بھارتی وزیراعظم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطاب دونوں ممالک کے مضبوط پارلیمانی اور جمہوری تعلقات کا اعتراف ہوگا۔ 

نیتن یاہو نے واضح کیا کہ یہ دورہ ہائی ٹیک، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسے جدید شعبوں میں تعاون کو فروغ دے گا تاکہ دونوں ممالک عالمی سطح پر قیادت برقرار رکھ سکیں۔ یہ دورہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک اور سفارتی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق وزیراعظم مودی اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب کریں گے اور یروشلم میں ایک تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔ اس مجوزہ دورے کو ہند-اسرائیل تعلقات میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے دو طرفہ تعاون کو نئی سمت ملنے کی توقع ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، صدر محمد بن زاید کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا بھارت کا تیسرا سرکاری دورہ ہوگا۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات 1972 میں قائم ہوئے تھے۔ یو اے ای نے اسی سال بھارت میں اپنا سفارت خانہ کھولا، جبکہ بھارت نے 1973 میں ابو ظہبی میں اپنا سفارت خانہ قائم کیا۔

وزیرخارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے مشرقی ایشیائی سربراہی اجلاس میں عالمی برادری سے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک ’’مسلسل اور سنگین خطرہ‘‘ ہے جس کے خلاف بھارت کا دفاعی حق ناقابل سمجھوتہ ہے۔