Bharat Express DD Free Dish

India foreign policy

دورے کے دوران وزیراعظم مودی اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کریں گے اور اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب بھی کریں گے۔ وہ کنیسٹ سے خطاب کرنے والے پہلے بھارتی وزیراعظم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطاب دونوں ممالک کے مضبوط پارلیمانی اور جمہوری تعلقات کا اعتراف ہوگا۔ 

نیتن یاہو نے واضح کیا کہ یہ دورہ ہائی ٹیک، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسے جدید شعبوں میں تعاون کو فروغ دے گا تاکہ دونوں ممالک عالمی سطح پر قیادت برقرار رکھ سکیں۔ یہ دورہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک اور سفارتی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق وزیراعظم مودی اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب کریں گے اور یروشلم میں ایک تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔ اس مجوزہ دورے کو ہند-اسرائیل تعلقات میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے دو طرفہ تعاون کو نئی سمت ملنے کی توقع ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، صدر محمد بن زاید کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا بھارت کا تیسرا سرکاری دورہ ہوگا۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات 1972 میں قائم ہوئے تھے۔ یو اے ای نے اسی سال بھارت میں اپنا سفارت خانہ کھولا، جبکہ بھارت نے 1973 میں ابو ظہبی میں اپنا سفارت خانہ قائم کیا۔

وزیرخارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے مشرقی ایشیائی سربراہی اجلاس میں عالمی برادری سے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک ’’مسلسل اور سنگین خطرہ‘‘ ہے جس کے خلاف بھارت کا دفاعی حق ناقابل سمجھوتہ ہے۔

افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نےکہا ہے کہ ’’ہندوستان ہمیشہ افغانستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ ہم ہندوستان کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

صدر زیلنسکی نے کہا ’’ہم نے روس کے خلاف پابندیوں پر بھی تفصیل سے بات کی۔ یہ ضروری ہے کہ ہر وہ رہنما جس کے پاس روس پر اثر انداز ہونے کی حقیقی صلاحیت ہے، ماسکو کو درست پیغام دے۔‘‘

بھارت کو اپنی صنعتی کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا، کاروبار کے لیے آسانیاں بڑھانی ہوں گی، ہنر مندی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی اور لاجسٹک اخراجات کو کم کرنا ہوگا۔ ایک مضبوط معیشت بیرونی اقتصادی دباؤ کے خلاف بہترین حفاظتی آلہ ہے۔

سونیا گاندھی نے وزیر اعظم سے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ خاموشی توڑیں اور ہندوستان کی تاریخی وراثت کے مطابق انصاف اور انسانیت کی آواز بنیں۔ انہوں نے کہا کہ جب عالمی برادری سکتے میں ہے تو گلوبل ساؤتھ کو ہندوستان کی قیادت کی اشد ضرورت ہے۔

برکس سربراہی اجلاس کے دوران وزیراعظم مودی امن و سلامتی، کثیر الجہتی نظام کو مضبوط بنانے، مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال، ماحولیاتی تبدیلی، عالمی صحت، اور اقتصادی و مالی امور سمیت کئی اہم عالمی موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔