نئی دہلی: ملک کی سیاست میں ایک بار پھر گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کے مستقبل کو لے کر ایک بڑا سیاسی دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس کی اقلیتی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات اور عوامی ناراضگی کے سبب وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت آئندہ ایک سال کے اندر گر سکتی ہے۔ ان کے اس بیان پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سازش اور جمہوریت مخالف سوچ قرار دیا ہے۔
کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے صدر عمران پرتاپ گڑھی کی جانب سے منعقدہ اس اہم اجلاس میں مختلف اقلیتی برادریوں کے نمائندے شریک تھے۔ اجلاس کے دوران راہل گاندھی نے عالمی اور ملکی معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں اقتصادی بحران بڑھ رہا ہے اور بھارت بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے باعث عوام میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے، جس کا سیاسی اثر جلد سامنے آئے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہی عوامی ناراضگی موجودہ حکومت کے خاتمے کی بڑی وجہ بنے گی۔ راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کے مختلف طبقات خود کو نظرانداز محسوس کر رہے ہیں اور عام آدمی پر معاشی بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کسان، مزدور، نوجوان اور متوسط طبقہ سبھی مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ حکومت حقیقی مسائل سے توجہ ہٹا کر سیاسی بیانیے بنانے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو عوام خود تبدیلی کا فیصلہ کریں گے۔
اجلاس کے دوران اقلیتوں سے متعلق سیاسی حکمت عملی پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ کچھ رہنماؤں نے مشورہ دیا کہ پارٹی کو مسلم لفظ کے بجائے صرف اقلیت کی اصطلاح استعمال کرنی چاہیے، تاکہ سیاسی پیغام زیادہ وسیع ہو سکے۔ تاہم راہل گاندھی نے اس تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ کسی بھی طبقے کا نام لینے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی برادری کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہو تو کانگریس کو کھل کر اس کے حق میں آواز اٹھانی چاہیے، چاہے وہ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، دلت، بودھ یا جین برادری ہو۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں بعض لیڈروں نے یہ شکایت بھی کی کہ کانگریس کے کئی سینئر لیڈر اقلیتوں کے مسائل پر کھل کر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ پارٹی کو ہر کمزور طبقے کی نمائندگی کرنی چاہیے اور خوف کی سیاست سے باہر نکلنا ہوگا۔
کانگریس لیڈر عمران مسعود نے بھی اجلاس میں اہم تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو اس تاثر کو ختم کرنا ہوگا کہ مسلم ووٹر صرف بی جے پی کو شکست دینے کے لیے ووٹ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق کانگریس کو اپنے ترقیاتی کاموں اور عوامی خدمات کو بنیاد بنا کر عوام کے درمیان جانا چاہیے، تاکہ مثبت سیاست کو فروغ دیا جا سکے اور اکثریتی ووٹوں کے پولرائزیشن کی سیاست کو ناکام بنایا جا سکے۔ ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی نے راہل گاندھی کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے کہا کہ راہل گاندھی ایک منتخب جمہوری حکومت کے خلاف سازش کا ماحول بنا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن ملک میں بداعتمادی اور انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سمبت پاترا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور عوام حکومت کے کام سے مطمئن ہیں، جبکہ اپوزیشن صرف سیاسی فائدے کے لیے اشتعال انگیز بیانات دے رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


