نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے، تاہم بھارت نے اپنے شہریوں اور جہازوں کی سلامتی کے حوالے سے اطمینان بخش صورت حال کی تصدیق کی ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کسی بھی بھارتی جہاز پر فائرنگ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، جبکہ خطے میں موجود بھارتی شہریوں اور ملاحوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزارت خارجہ میں خلیجی امور کے اضافی سکریٹری عاصم آر مہاجن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرون ملک مقیم بھارتی برادری کی سلامتی اور فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جہاں 24 گھنٹے ہیلپ لائن خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ خطے میں موجود بھارتی سفارتی مشنز نہ صرف شہریوں کو ضروری مشورے فراہم کر رہے ہیں بلکہ مقامی حکام، ریاستی حکومتوں اور کمیونٹی تنظیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں بھی ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے نہ صرف عام شہریوں بلکہ ملاحوں کو بھی ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
پروازوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فضائی آپریشن بتدریج بہتر ہو رہے ہیں۔ 28 فروری سے اب تک 12 لاکھ سے زائد مسافر مختلف ممالک سے بھارت واپس آ چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عمان اور بحرین سے مزید پروازیں چلائی جا رہی ہیں۔ اگرچہ کچھ فضائی حدود اب بھی بند ہیں، تاہم متبادل راستے تلاش کیے گئے ہیں، جن میں ایران سے آرمینیا اور آذربائیجان کے راستے شامل ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے جوائنٹ سکریٹری مکیش منگل نے بتایا کہ اس خطے میں موجود تمام بھارتی ملاح محفوظ ہیں۔ شپنگ ڈائریکٹوریٹ کے تعاون سے اب تک 2,680 سے زائد بھارتی ملاحوں کو بحفاظت وطن واپس لایا جا چکا ہے، جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 65 افراد شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک بھر کی بندرگاہوں پر سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا بھیڑ کی اطلاع نہیں ہے۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کسی بھارتی جہاز پر فائرنگ نہیں ہوئی۔ البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث بحری جہازوں پر موجود افراد کی سلامتی کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔ ان کے مطابق جتنے بھی حملے ہوئے ہیں وہ غیر ملکی پرچم والے جہازوں پر ہوئے ہیں، جبکہ بھارتی جہاز محفوظ رہے ہیں۔ دریں اثنا وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھارت کا مؤقف واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ امن کا حامی رہا ہے اور کسی بھی تنازعے کو سفارتی ذرائع اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امن کے قیام کے لیے کوئی بھی قدم اٹھایا جاتا ہے تو بھارت اس کی حمایت کرے گا۔
اسی بریفنگ میں انہوں نے بھارت اور امریکہ کے درمیان جاری دوطرفہ تجارتی مذاکرات پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق بھارتی وفد اس وقت واشنگٹن میں موجود ہے اور مذاکرات تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ دونوں ممالک باہمی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات اور واضح معلومات کی فراہمی سے عوام میں اعتماد برقرار رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔ وزارتِ خارجہ نے ایک بار پھر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قریبی سفارتی مشن سے رابطہ کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


