حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے کانگریس لیڈر پون کھیڑا کی پیشگی ضمانت کی درخواست پر سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی ہے۔ یہ معاملہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کی اہلیہ کے خلاف لگائے گئے الزامات سے متعلق درج مقدمے سے جڑا ہوا ہے، جس نے سیاسی ماحول کو خاصا گرم کر دیا ہے۔ عدالت میں جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران پون کھیڑا کی جانب سے سینئر وکیل اور کانگریس لیڈر ابھیشیک سنگھوی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے دلائل پیش کیے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آسام حکومت کی جانب سے درج مقدمہ دراصل سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے اور اس کا مقصد اپوزیشن لیڈروں کو ہراساں کرنا ہے۔ دوسری جانب آسام حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل دیوجیت سائکیا نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ مکمل طور پر قانونی بنیادوں پر قائم ہے اور اس میں کسی قسم کا سیاسی محرک شامل نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت میں یہ بھی سوال اٹھایا کہ آیا تلنگانہ ہائی کورٹ کو اس معاملے کی سماعت کا اختیار حاصل ہے یا نہیں، کیونکہ مقدمہ آسام میں درج کیا گیا ہے۔
پون کھیڑا نے 7 اپریل کو اپنی درخواست دائر کرتے ہوئے حیدرآباد کو اپنا عارضی پتہ ظاہر کیا تھا اور عدالت سے اپیل کی تھی کہ اگر انہیں گرفتار کیا جائے تو انہیں فوری طور پر ضمانت پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے اپنی عرضی میں گوہاٹی کرائم برانچ کے پولیس افسران اور تلنگانہ حکومت کو فریق بنایا ہے۔ سماعت کے دوران ابھیشیک سنگھوی نے آسام کے وزیر اعلیٰ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ”آئینی کاؤ بوائے“ قرار دیا اور کہا کہ موجودہ دور میں اس طرح کے اقدامات جمہوری اصولوں کے منافی ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ جب گوہاٹی پولیس نے ایف آئی آر درج کی، اس وقت پون کھیڑا حیدرآباد میں مقیم تھے اور ان کا وہاں رہائش کا جائز تعلق موجود ہے کیونکہ ان کی اہلیہ کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ معاملہ ہتک عزت کا ہے تو اسے دیوانی یا فوجداری عدالت میں حل کیا جا سکتا ہے، لیکن اس بنیاد پر کسی کو گرفتار کرنا غیر ضروری ہے۔ ان کے مطابق پون کھیڑا ایک معروف سیاسی شخصیت ہیں، نہ وہ عادی مجرم ہیں اور نہ ہی ان کے فرار ہونے کا کوئی خدشہ ہے۔ اس کے برعکس ایڈووکیٹ جنرل سائکیا نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر میں درج الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آسام ایک منظم قانونی نظام رکھنے والی ریاست ہے اور وہاں کسی بھی ملزم کو منصفانہ قانونی عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ کھیڑا کی جان کو کسی قسم کا خطرہ ہے۔
سائکیا نے مزید کہا کہ شکایت کنندہ ایک عام شہری خاتون ہیں، کوئی سیاسی شخصیت نہیں، اس لیے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق کھیڑا کی جانب سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور غیر مصدقہ ہیں، جن کی بنیاد پر کارروائی ضروری ہے۔ انہوں نے عدالت کے سامنے یہ سوال بھی رکھا کہ اگر ایف آئی آر ایک ریاست میں درج ہو، ملزم دوسری ریاست کا رہائشی ہو اور تیسری ریاست کی عدالت سے پیشگی ضمانت طلب کرے، تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔ ان کے مطابق اس کیس میں یہی صورتحال ہے، جس پر عدالت کو غور کرنا چاہیے۔ آسام حکومت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پون کھیڑا نے مبینہ طور پر جعلی آدھار کارڈ کا استعمال کیا اور عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، جس کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پون کھیڑا نے 5 اپریل کو وزیر اعلیٰ کی اہلیہ رِنیکی بھوئیاں شرما پر متعدد پاسپورٹس اور بیرون ملک جائیداد رکھنے کا الزام لگایا تھا، جس کا ذکر مبینہ طور پر انتخابی حلف نامے میں نہیں کیا گیا تھا۔ اس بیان کے بعد گوہاٹی کرائم برانچ میں ان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ اس سے قبل آسام پولیس کی ایک ٹیم دہلی میں کھیڑا کی رہائش گاہ پر بھی پہنچی تھی تاکہ اس معاملے میں پوچھ گچھ کی جا سکے، تاہم وہ اس وقت حیدرآباد میں موجود تھے۔ ادھر وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے بغیر تصدیق کے الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پون کھیڑا اگر کہیں بھی چھپ جائیں، آسام پولیس انہیں تلاش کر لے گی۔ فی الحال عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی ہے، جہاں اس اہم کیس پر مزید کارروائی اور ممکنہ فیصلہ متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

