نئی دہلی: یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وون ڈیر لیئن نے برطانیہ کے وزیراعظم کیراسٹارمر سے ٹیلیفون پر اہم بات چیت کرتے ہوئے مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایران کی حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی خطرات پر تبادلہ خیال کیا۔
عالمی معیشت پر خطرات اور آبنائے ہرمز کی اہمیت
ارسولا وون ڈیر لیئن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے اقدامات عالمی اقتصادی استحکام کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز، جو دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے مہنگائی اور معاشی عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ جلد از جلد جہاز رانی کی آزادی کو بحال کیا جا سکے اور عالمی سپلائی چین کو معمول پر لایا جا سکے۔
یورپ اور برطانیہ کے تعلقات پر بھی گفتگو
گفتگو کے دوران آئندہ یورپی یونین اور برطانیہ سربراہی اجلاس پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ارسولا وون ڈیر لیئن نے اس اجلاس کو گزشتہ وعدوں کی تکمیل اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں یورپ اور برطانیہ کے درمیان قریبی تعاون نہایت ضروری ہے۔
عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز
دریں اثنا برطانیہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے مسئلے پر ایک اہم ورچوئل اجلاس بلانے کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں تقریباً 35 ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں مختلف سفارتی اور سیاسی آپشنز پر غور کیا جائے گا تاکہ اس اہم بحری راستے کو دوبارہ محفوظ اور فعال بنایا جا سکے۔ وزیراعظم کیراسٹارمر نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس اجلاس میں فوجی ماہرین کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا سکے۔
امریکہ اور عالمی ردعمل
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں آبنائے ہرمز کی بندش کے ممکنہ اثرات کو کم اہمیت دینے کی کوشش کی، تاہم یورپی ممالک اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ برطانوی حکام کے مطابق، برطانیہ اس معاملے پر امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف توانائی کی منڈی بلکہ عالمی تجارت، مہنگائی اور ترقی پذیر ممالک کی معیشت پر بھی گہرے ہوں گے۔ اس تناظر میں عالمی رہنماؤں کی سفارتی سرگرمیاں اس بحران کو قابو میں رکھنے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
