Urdu Conclave 2026

Oil Supply

دنیا بھر میں توانائی کا بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی متاثر ہے، جبکہ سعودی عرب نے عراقی علاقے سے ہونے والے متعدد ڈرون حملوں کے بعد اپنی خام تیل کی پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ دوسری جانب یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر 18 گھنٹے تک جاری رہنے والے شدید حملے کے بعد حوثی باغی آبنائے باب المندب  پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ تینوں راستے عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف توانائی کی منڈی بلکہ عالمی تجارت، مہنگائی اور ترقی پذیر ممالک کی معیشت پر بھی گہرے ہوں گے۔ اس تناظر میں عالمی رہنماؤں کی سفارتی سرگرمیاں اس بحران کو قابو میں رکھنے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

جاپان دنیا کے بڑے تیل ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں سرکاری اور نجی ذخائر ملا کر تقریباً 254 دن کی کھپت کے برابر تیل موجود ہے۔ اس کے باوجود ملک اپنی 90 فیصد سے زیادہ خام تیل کی ضروریات کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے موجودہ جنگی صورتحال میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔