نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے اطلاع دی کہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں پھنسے بھارت کے کئی جہاز کامیابی کے ساتھ ملک واپس پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مختلف ممالک کے سپلائرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ تیل، گیس اور دیگر ضروری اشیاء کی سپلائی بلا رکاوٹ جاری رکھی جا سکے۔ وزیر اعظم نے ایوان کو بتایا کہ حکومت خلیجی خطے اور اس کے اطراف کے شپنگ روٹس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ تیل، گیس اور کھاد جیسی بنیادی ضروریات سے وابستہ تمام جہاز محفوظ طریقے سے بھارت تک پہنچیں۔ اس کے لیے ہم اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں تاکہ سمندری راستے محفوظ رہیں”۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں درپیش مشکلات کے باوجود کئی بھارتی جہاز بحفاظت وطن لوٹ آئے ہیں۔ واضح رہے کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث اس اہم سمندری راستے پر جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے، جس کا اثر عالمی توانائی سپلائی پر بھی پڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم نے اس صورتحال کے تناظر میں کہا کہ بھارت اپنی بڑی مقدار میں خام تیل، گیس اور کھاد ہرمز کے راستے درآمد کرتا ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی کسی بھی رکاوٹ کا براہ راست اثر ملک کی معیشت اور عوامی زندگی پر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے کہ پٹرول، ڈیزل اور گھریلو گیس کی سپلائی متاثر نہ ہو اور عوام کو کم سے کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ بھارت اپنی ضرورت کا تقریباً 60 فیصد ایل پی جی درآمد کرتا ہے۔ موجودہ غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے گھریلو استعمال کو ترجیح دی ہے اور ساتھ ہی ملک میں ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ پیٹرول اور ڈیزل کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بھی جامع حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے قومی توانائی سلامتی کے حوالے سے گزشتہ ایک دہائی میں اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اپنے توانائی ذرائع کو متنوع بنایا ہے۔ پہلے ملک 27 ممالک سے توانائی درآمد کرتا تھا، جبکہ اب یہ تعداد بڑھ کر 41 ہو گئی ہے، جس سے کسی ایک خطے پر انحصار کم ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس وقت بھارت کے پاس 53 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ذخیرہ موجود ہے جبکہ مزید 65 لاکھ میٹرک ٹن کی گنجائش بڑھانے پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ تیل کمپنیوں کے اپنے ذخائر بھی الگ سے موجود ہیں۔ وزیر اعظم نے ایتھنول کے استعمال میں اضافے کو بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں ایتھنول بلینڈنگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور اب ملک 20 فیصد کے قریب پہنچ چکا ہے، جس کے نتیجے میں ہر سال تقریباً 4.5 کروڑ بیرل تیل کی درآمد میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے ریلوے کے برقی نظام کی توسیع کو بھی توانائی بچت کے لیے اہم قدم قرار دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
