نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کی دیر رات کابینہ کمیٹی برائے سلامتی (سی سی ایس) کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ 7، لوک کلیان مارگ پر منعقد ہونے والا یہ اجلاس تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہا جس میں خطے کی بدلتی سکیورٹی صورتحال اور اس کے بھارت پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کا سب سے اہم محور مغربی ایشیا اور خلیجی ممالک میں مقیم تقریباً 90 لاکھ بھارتی شہریوں کی سلامتی رہا۔ کمیٹی نے متعلقہ وزارتوں اور سفارتی مشنز کو ہدایت دی کہ جنگی حالات میں پھنسے شہریوں کی فوری مدد کو یقینی بنایا جائے۔ ضرورت پڑنے پر بڑے پیمانے پر انخلا کے لیے ہنگامی ریسکیو منصوبہ بھی زیر غور لایا گیا۔ دبئی اور دوحہ جیسے اہم ہوائی اڈوں پر پھنسے بھارتی مسافروں اور امتحانات کے لیے آنے والے طلبہ کو درپیش مشکلات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔
اجلاس میں توانائی سلامتی کو خصوصی اہمیت دی گئی کیونکہ جاری تنازعہ عالمی تیل سپلائی پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے اہم سمندری راستوں کی بندش کے خدشات کے پیش نظر بھارتی آئل ٹینکروں کی حفاظت، خام تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے اور تجارتی جہاز رانی کے محفوظ متبادل راستوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ماہرین نے حکومت کو توانائی درآمدات کے متبادل ذرائع مضبوط بنانے کی بھی سفارش کی۔
یہ اہم اجلاس وزیر اعظم کے حالیہ ریاستی دوروں سے واپسی کے فوراً بعد طلب کیا گیا جس میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے وابستہ اعلیٰ قیادت شریک ہوئی۔ اجلاس میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، وزیر خزانہ نرملا سیتارمن، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان موجود رہے۔ سکیورٹی کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 28 فروری 2026 سے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ اس تناظر میں وزیر اعظم مودی نے حالیہ دنوں میں اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زائد النہیان سے بھی رابطہ کر بھارتی شہریوں کی سلامتی کو اولین ترجیح قرار دیا تھا۔
اجلاس کے اختتام پر بھارت کے سفارتی مؤقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا گیا کہ تمام فریقین کو فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔ وزارت خارجہ اور بیرون ملک بھارتی سفارت خانوں کی جانب سے ہیلپ لائن نمبرز فعال کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو فوری مدد فراہم کی جا سکے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اجلاس اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت نہ صرف اپنے شہریوں کے تحفظ بلکہ توانائی، معیشت اور علاقائی استحکام کے حوالے سے ہر ممکن پیشگی تیاری کر رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

