Urdu Conclave 2026

CCS Meeting

اجلاس میں تنازع سے متاثرہ علاقوں میں ملکی اور غیر ملکی جہازوں پر خدمات انجام دینے والے بھارتی سمندری اہلکاروں کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر اعظم مودی نے ہدایت دی کہ ایسا مؤثر نظام قائم کیا جائے جس کے ذریعے ان اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو بروقت معلومات، ہنگامی امداد اور ضروری رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

مغربی ایشیا میں جاری کشیدہ حالات کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کابینہ کمیٹی برائے سلامتی (CCS) کے خصوصی اجلاس کی صدارت کی۔ اس حساس معاملے پر یہ چوتھا خصوصی اجلاس تھا، جس میں خطے کی صورتحال اور اس کے بھارت پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

میٹنگ میں ایل پی جی، ایل این جی، بجلی اور کھاد کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات، افواہوں کو روکنے کے لیے درست معلومات کی ترسیل پر زور۔ یہ اجلاس 7 لوک کلیان مارگ میں منعقد ہوا اور اس معاملے پر سی سی ایس کا یہ دوسرا خصوصی اجلاس تھا۔

اجلاس میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ عام شہریوں کے لیے خوراک، ایندھن اور توانائی کی فراہمی کیسے یقینی بنائی جائے۔ قلیل مدتی، درمیانی مدتی اور طویل مدتی اقدامات پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔ خریف سیزن کے لیے کسانوں کو کھاد کی دستیابی، متبادل ذرائع اور موجودہ ذخائر کا بھی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ بجلی گھروں میں کوئلے کے مناسب ذخائر کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ ملک میں بجلی کی کوئی کمی نہ ہو۔

مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کی دیر رات کابینہ کمیٹی برائے سلامتی (سی سی ایس) کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔

یہ اجلاس مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں طلب کیا گیا ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر فضائی کارروائیوں کے بعد حالات سنگین ہو گئے ہیں۔

پہلگام حملے کے بعد بھارت کے بڑے فیصلے: انڈس واٹر معاہدہ معطل، اٹاری چیک پوسٹ بند، پاکستانی ہائی کمیشن کو 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم، وکرم مسری نے کیا اعلان

سی سی ایس میٹنگ میں پہلگام حملے کے تناظر میں موجودہ صورت حال کے جائزے کے ساتھ جوابی کارروائی پر بات چیت کی گئی۔

پہلگام میں منگل کے روز ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد وزیراعظم مودی نے وطن واپسی کے فوراً بعد ایک ہنگامی میٹنگ کی، جس میں قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال، وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر، خارجہ سکریٹری وکرم مِسری اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔