اسلام آباد: پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ جمعرات کی دیر رات افغانستان کی جانب سے مبینہ حملوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہو گئے ہیں، جس پر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے افغانستان کو ’کھلی جنگ‘ کی وارننگ دے دی ہے۔ انہوں نے افغان طالبان حکومت پر بھارت کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق افغان فورسز نے کنڑ صوبے سے ملحق پاکستانی سرحدی علاقوں پر حملہ کیا، جس میں افغان حکام نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج کے 55 اہلکار مارے گئے۔ تاہم اس حوالے سے پاکستانی حکام کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ سرحدی علاقوں میں فائرنگ اور جھڑپوں کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ افغان سرحد پر مسلسل فائرنگ اور اشتعال انگیزی نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں سخت جواب دینا ناگزیر ہو گیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر حملے بند نہ ہوئے تو پاکستان کھلی جنگ کے لیے تیار ہے۔ خواجہ آصف نے افغان طالبان قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج کسی دور دراز خطے سے نہیں آئی بلکہ دونوں ممالک ہمسایہ ہیں اور پاکستان اپنی سرحدوں اور دفاعی صلاحیتوں سے بخوبی واقف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی مسلح افواج افغان جارحیت کا بھرپور جواب دے رہی ہیں اور دشمن کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اپنے بیان میں انہوں نے بھارت کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکومت بھارت نواز پالیسی اختیار کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کو ایک طرح سے بھارتی اثر و رسوخ کے حوالے کر دیا گیا، جہاں عالمی سطح کے شدت پسند عناصر کو جمع کر کے دہشت گردی برآمد کی جا رہی ہے۔ تاہم افغانستان یا بھارت کی جانب سے ان الزامات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کارروائی میں پاکستانی فوج کے 23 اہلکاروں کی لاشیں ان کے قبضے میں ہیں اور سرحدی علاقے میں واقع ایک فوجی ہیڈکوارٹر سمیت 19 چوکیوں پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔ افغان ذرائع کے مطابق کارروائی دفاعی نوعیت کی تھی اور اسے پاکستانی حملوں کے جواب میں انجام دیا گیا۔
ادھر پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے جوابی کارروائی کے طور پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔ سرکاری دعوؤں کے مطابق اس کارروائی میں اب تک 72 افغان طالبان جنگجو ہلاک جبکہ 120 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ سرحدی تنازعات، شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور باہمی الزامات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے بھی فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی اپیل متوقع ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات پورے جنوبی ایشیا پر پڑ سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

