Bharat Express DD Free Dish

Airstrikes

فروری 2026 میں سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی فوجی چوکیوں پر جوابی حملے کیے تھے۔ پاکستان نے 27 فروری 2026 کو جواب دیتے ہوئے افغانستان کے اندر کابل، قندھار اور پکتیا جیسے علاقوں میں فضائی اور زمینی حملے تیز کر دیے تھے۔ اس صورتحال کو کھلی جنگ جیسی کیفیت قرار دیا گیا تھا۔مارچ کے وسط تک دونوں فریقوں کے درمیان مسلسل لڑائی جاری رہی۔

انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق، ایران میں انٹرنیٹ کا استعمال معمول کے صرف تقریباً 1 فیصد رہ گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ زیادہ تر لوگ انٹرنیٹ استعمال نہیں کر پا رہے اور ملک تقریباً دنیا سے ڈیجیٹل طور پر منقطع ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں کابل کے خطرناک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ رچرڈ بینیٹ نے شہری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کابل اور اسلام آباد سے تحمل کی اپیل کی۔

پاکستان نے افغانستان کے کئی شہروں پرفضائی حملے کئے، جس کے بعد طالبان نے اسلام آباد ایئرپورٹ کونشانہ بنایا۔ طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں پاکستانی فوج کوکافی نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ جمعرات کی دیر رات افغانستان کی جانب سے مبینہ حملوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہو گئے ہیں، جس پر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے افغانستان کو ’کھلی جنگ‘ کی وارننگ دے دی ہے۔ انہوں نے افغان طالبان حکومت پر بھارت کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

اسلامی امارت افغانستان کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ آپریشن کے دوران متعدد پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کچھ اہلکاروں کو زندہ گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

نومبر میں پاکستان میں شیڈول سہ فریقی سیریز خطرے میں پڑ گئی ہے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ نے دورہ پاکستان سے انکار کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ سرحد پر حالیہ المناک واقعے کے بعد لیا گیا ہے۔

پاکستان کا دوغلا پن ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے۔ تمام کھلاڑی میچ کے بعد اپنے اپنے گھر واپس جانے کی تیاری کر رہے تھے، اس وقت پاکستانی فضائیہ نے ان پر بم گرا دیا جس کے نتیجے میں آٹھ کھلاڑی ہلاک ہو گئے۔

افغان دارالحکومت جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بم دھماکوں سے لرز اٹھا۔ رات کی تاریکی میں پاکستانی فضائیہ نے کابل کے اندر فضائی حملہ کیا۔ پاکستانی لڑاکا طیاروں نے مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو نشانہ بنایا۔ افغان حکام نے کابل پر غیر معمولی فضائی سرگرمیوں کی تصدیق کی ہے۔

پاکستانی فوجی حکام کے مطابق 16 سے 23 جولائی تک سینٹرل سیکٹر کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رہے گی۔ اسی طرح 22 اور 23 جولائی کو جنوبی پاکستان کی ایئر اسپیس بھی بند کر دی گئی ہے۔