امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں 8 اسلامی ممالک نے شامل ہونے پررضامندی ظاہرکی ہے۔ خبروں کے مطابق، ان ممالک نے مشترکہ بیان جاری کرکے کہا ہے کہ وہ غزہ میں مستقل امن، تعمیرنواورسیاسی استحکام کے لیے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کی حمایت کریں گے۔ ’بورڈ آف پیس‘ کوغزہ سیزفائرکے دوسرے مرحلے کے تحت پیش کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد غزہ میں عبوری انتظامیہ، تعمیرنو، فنڈنگ اورسرمایہ کاری کے لیے ایک مربوط فریم ورک کواکٹھا کرنا ہے۔ صدرڈونلڈ ٹرمپ خود اس بورڈ کے سربراہ ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، بورڈ کے ہررکن کی مخصوص ذمہ داریاں ہوں گی، جیسے کہ گورننس کی صلاحیت کوبڑھانا، علاقائی تعلقات کوبہتربنانا، تعمیرنو، سرمایہ کاری کوراغب کرنا اورسرمایہ اکٹھا کرنا ہوگا۔
کن کن ممالک نے دی رضامندی؟
اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق، قطر، ترکیہ، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات (یواے ای) کے وزرائے خارجہ نے قطرکے دارالحکومت دوحہ میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام ممالک نے مشترکہ طورپر’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے اوروہ اپنے اپنے قانونی طریقہ کارکے مطابق ضروری دستاویزات پردستخط کریں گے۔ مصر، پاکستان اورمتحدہ عرب امارات نے پہلے ہی بورڈ میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔
اسرائیل کوکیوں ہے اعتراض؟
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعہ مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ کی پہل بھی تنازعہ کا شکارہے۔ اسرائیل نے واضح طورپرکہا ہے کہ امریکہ نے یہ بورڈ اس سے بغیرمشورہ کئے ہوئے اعلان کیا ہے، جواس کی پالیسی کے خلاف ہے۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیل کوسب سے زیادہ اعتراض ترکیہ کی شراکت داری سے ہے۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ ترکیہ حماس کے تئیں نرم رخ رکھتا ہے اورایسے ملک کوغزہ کے انتظام وانصرام میں شامل نہیں کیا جانا چاہئے۔
فنڈنگ سے متعلق بھی سوال
بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بورڈ کے ڈرافٹ چارٹرمیں مستقل رکنیت کے لئے پہلے سال میں 1 بلین ڈالرکی ادائیگی کی ضرورت ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ کو گمراہ کن قراردیتے ہوئے مسترد کردیا کہ بورڈ میں شامل ہونے کے لیے کوئی کم ازکم فیس نہیں ہے۔ مستقل رکنیت صرف ان ممالک کودی جائے گی جوامن اوراستحکام کے لیے گہری وابستگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے عندیہ دیا ہے کہ ’بورڈ آف پیس‘ اورغزہ ایگزیکٹیوبورڈ کے اضافی اراکین کا اعلان آنے والے ہفتوں میں کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


