وزیرِ اعظم نریندر مودی۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ (8 نومبر) کو دارالحکومت دہلی میں سپریم کورٹ میں قانونی امداد کی فراہمی کے نظام کو مضبوط کرنے سے متعلق قومی کانفرنس کا افتتاح کیا۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ قانونی امداد کے نظام کی مضبوطی اور قانونی عمل سے متعلق یہ پروگرام ہماری عدالتی نظام کو نئی طاقت دے گا۔ میں بیسویں نیشنل کانفرنس کے موقع پر آپ سب کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ اب انصاف سب کے لیے قابلِ رسائی ہو گیا ہے۔ اب بروقت انصاف ہوتا ہے اور یہ کسی بھی سماجی یا اقتصادی پس منظر کو دیکھے بغیر ہر شخص تک پہنچتا ہے، تبھی یہ سماجی انصاف کی بنیاد بنتا ہے۔ قانونی امداد اس بات میں اہم کردار ادا کرتی ہے کہ انصاف سب کے لیے دستیاب ہو۔
’ثالثی (میڈی ایشن) ہمیشہ ہماری تہذیب کا حصہ رہی ہے‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’ایز آف ڈوئنگ‘ اور ’ایز آف لیونگ‘ تبھی ممکن ہیں جب ’ایز آف جسٹس‘ بھی یقینی بنایا جائے۔ گزشتہ کچھ برسوں میں ’ایز آف جسٹس‘ کو بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں اور ہم آئندہ بھی اس سمت میں تیزی سے کام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ثالثی (میڈی ایشن) ہمیشہ ہماری تہذیب کا حصہ رہی ہے۔ نیا میڈی ایشن ایکٹ اسی روایت کو آگے بڑھا رہا ہے اور اسے جدید شکل دے رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس تربیتی ماڈیول کے ذریعے ایسی انسانی قوت تیار ہوگی جو تنازعات کے حل، ہم آہنگی کے قیام اور عدالتی مقدمات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
’ٹیکنالوجی آج شمولیت اور بااختیاری کا ذریعہ بن گئی ہے‘
وزیراعظم مودی نے کہا کہ ٹیکنالوجی آج شمولیت اور بااختیاری کا ذریعہ بن گئی ہے۔ انصاف کی فراہمی میں ای-کورٹ پروجیکٹ اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ جب لوگ قانون کو اپنی زبان میں سمجھتے ہیں تو اس کا بہتر نفاذ ہوتا ہے اور مقدمات میں کمی آتی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عدالتی فیصلے اور قانونی دستاویزات مقامی زبان میں دستیاب کرائے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعی قابلِ تعریف ہے کہ سپریم کورٹ نے 80 ہزار سے زائد فیصلوں کو 18 بھارتی زبانوں میں ترجمہ کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کوشش آئندہ ہائی کورٹ اور ضلعی سطح پر بھی جاری رہے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




