Bharat Express DD Free Dish

Chief Justice

جسٹس دتا نے کہا کہ اگرچہ دونوں ججوں کا نتیجہ مختلف ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ اب اس معاملے کو 3 ججوں کی بنچ کے پاس بھیجا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھا جائے اور وہ 5 ججوں کی بنچ تشکیل دے دیں۔جسٹس دتا نے کہا کہ عرضی گزاروں کو خدشہ تھا کہ آئینی بنچ کو بھیجے گئے معاملات پر برسوں تک سماعت نہیں ہوتی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاملے کی جلد سماعت ہوگی۔

سابق جج نے کہا، ’’ایک شخص کو بظاہر سیاسی آزادی حاصل ہو سکتی ہے، لیکن جب وہ خوراک، تعلیم، صحت کی سہولت، روزگار یا باوقار زندگی گزارنے کے لیے ضروری بنیادی حالات سے محروم ہو تو اس آزادی کی حقیقی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے حقوق محض نظری تصورات بن کر نہیں رہ سکتے۔‘‘وہ نویں چیف جسٹس ایم سی چاگلہ میموریل لیکچر سے خطاب کر رہے تھے

یونیورسٹی آف ممبئی کے شعبۂ قانون اور چیف جسٹس ایم سی چھاگلا میموریل ٹرسٹ کے اشتراک سے 9ویں چیف جسٹس ایم سی چھاگلا میموریل لیکچر کا انعقاد

سپریم کورٹ آف انڈیا کے معزز جج جسٹس جے۔کے۔ مہیشوری نے کہا کہ کمرشیل اور کاروباری تنازعات کے مؤثر، تیز اور پائیدار حل کے لیے میڈی ایشن اب محض ایک متبادل طریقہ نہیں بلکہ ایک منظم اور سائنسی عدالتی عمل بن چکا ہے، جسے موجودہ قانونی نظام میں لازمی حیثیت حاصل ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس بی آر گوئی نے سپریم کورٹ میں لال نارائن سنہا اور شانتی بھوشن کے پورٹریٹ کی نقاب کشائی کی، ان کی قانون اور آئینی دیانت داری کے میدان میں نمایاں خدمات کو سراہا۔ انہوں نے انصاف اور جمہوریت کے لیے ان کی وابستگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی آنے والی نسلوں کے قانونی پیشہ وروں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ (8 نومبر) کو دارالحکومت دہلی میں سپریم کورٹ میں قانونی امداد کی فراہمی کے نظام کو مضبوط کرنے سے متعلق قومی کانفرنس کا افتتاح کیا۔

چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی نے قومی سالانہ اسٹیک ہولڈر مشاورتی کانفرنس میں بچیوں کی حفاظت پر بات کی۔ عدالت کی جووینائل جسٹس کمیٹی اور یونیسیف انڈیا کے زیر اہتمام منعقدہ اس تقریب میں خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر سمیت عدلیہ کے کئی ارکان نے شرکت کی۔

’’انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل (ITAT) کردار، چیلنجز اور مستقبل کی راہ‘‘ کے موضوع پر سیمینار اور اعزازی تقریب میں ہندوستان کے چیف جسٹس جسٹس بی آر گوئی کو اعزاز سے نوازا گیا۔

سپریم کورٹ میں وکیل کی جانب سے چیف جسٹس پر جوتا پھینکنے کی ناکام کوشش۔ سپریم کورٹ کے اندر پیش آیا یہ افسوسناک واقعہ نہ صرف عدلیہ پر حملہ سمجھا جا رہا ہے بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی وقار کے لیے ایک چیلنج بھی ہے۔ حکومت و اپوزیشن دونوں نے اسے سختی سے مسترد کرتے ہوئے عدلیہ کے وقار کے تحفظ پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔

چیف جسٹس نے نشاندہی کی کہ تجارتی تنازعات میں تاخیر کاروبار پر براہ راست منفی اثر ڈالتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ثالثی جیسے نظام کو مزید فروغ دیا جائے تاکہ تنازعات کا حل وقت پر اور کم اخراجات کے ساتھ ممکن ہو سکے۔