پٹنہ: بہار حکومت نے 2,400 میگاواٹ کے بھاگلپور (پیرپینتی) پاور پروجیکٹ کا ٹھیکہ اڈانی پاور لمیٹڈ کو دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک شفاف اور مسابقتی بولی کے عمل کے بعد کیا گیا، جس میں احمد آباد کی اس کمپنی نے دیگر بولی دہندگان کے مقابلے کم بجلی ٹیرف پیش کر کے بازی ماری۔ ذرائع کے مطابق اس بولی میں ٹورینٹ پاور، جے ایس ڈبلیو انرجی اور للِت پور پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ سمیت چار بڑی کمپنیوں نے حصہ لیا تھا، مگر اڈانی پاور نے سب سے کم ٹیرف 6.075 روپے فی یونٹ تجویز کر کے سبقت حاصل کی۔
کم ترین بولی اور “ایل1” کمپنی کا درجہ حاصل
اڈانی پاور کی پیش کردہ بولی میں 4.165 روپے کا فکسڈ چارج اور 1.91 روپے فی یونٹ کا فیول چارج شامل ہے۔ اس طرح کل ٹیرف 6.075 روپے فی یونٹ بنتا ہے۔ ریاستی حکومت نے اس بولی کو “انتہائی مسابقتی اور حقیقت پسندانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش میں حالیہ دنوں میں ہوئے اسی نوعیت کے ٹینڈرز میں فکسڈ چارج اس سے زیادہ رہے ہیں۔ دوسری جانب ٹورینٹ پاور نے 6.145 روپے فی یونٹ کی پیشکش کی، للِت پور پاور جنریشن نے 6.165 روپے فی یونٹ، جبکہ جے ایس ڈبلیو انرجی نے 6.205 روپے فی یونٹ کا نرخ تجویز کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پورا ای-بولی عمل حکومتی معیارات کے مطابق شفافیت کے ساتھ کیا گیا، تاکہ ہر شریک کمپنی کو یکساں موقع ملے اور نتیجہ شفاف ہو۔
30,000 کروڑ روپے کا متوقع سرمایہ کاری منصوبہ
بہار حکومت کا ماننا ہے کہ اس پراجیکٹ کے ذریعے ریاست میں صنعتی سرگرمیوں کو زبردست فروغ ملے گا۔ اڈانی پاور کا تخمینی سرمایہ کاری منصوبہ تقریباً 30,000 کروڑ روپے کا ہے، جس سے روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔ یہ پروجیکٹ، جو سب سے پہلے 2012 میں بہار اسٹیٹ پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ نے شروع کیا تھا، کئی ناکام کوششوں کے بعد 2024 میں دوبارہ فعال کیا گیا۔ اب، ایک دہائی کے بعد، اس کے لیے موزوں سرمایہ کار اور ڈیولپر ملنے سے بہار کے توانائی شعبے میں نئی جان آنے کی امید ہے۔
سیاسی تنازعہ اور کانگریس کا الزام
پراجیکٹ کے ٹھیکے کے اعلان کے فوراً بعد بہار میں سیاسی ہلچل تیز ہو گئی۔ انتخابات سے قبل کانگریس نے بی جے پی حکومت اور مرکزی قیادت پر ”اڈانی گروپ کو ریڈ کارپٹ ٹریٹمنٹ دینے” کا الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکرٹری کے سی وینوگوپال نے ایک پوسٹ میں کہا کہ “بہار کے غریب اور متوسط طبقے سے 6 روپے فی یونٹ کے بھاری ٹیرف پر بجلی خریدنا دراصل مودی کے دوستوں کی تجوریاں بھرنے کی ایک اور کوشش ہے“۔ دوسری طرف، حکومتی ذرائع نے ان الزامات کو “بے بنیاد اور گمراہ کن” قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ 6.075 روپے فی یونٹ کا ٹیرف حالیہ لاگتوں اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود انتہائی مسابقتی ہے۔ حکومت کے مطابق مدھیہ پردیش میں حالیہ 3,200 میگاواٹ کے ٹینڈر میں فکسڈ چارج 4.222 سے 4.298 روپے فی یونٹ کے درمیان رہا، جبکہ بہار میں یہ 4.165 روپے رکھا گیا، جو نسبتاً کم ہے۔
اڈانی پاور کو کسی خاص رعایت کی تردید
عہدیداروں نے واضح کیا کہ اڈانی گروپ کو کوئی خصوصی رعایت نہیں دی گئی۔
پروجیکٹ کے لیے جو زمین پہلے سے ریاستی ملکیت میں ہے، وہ بہار انڈسٹریل انویسٹمنٹ پروموشن پالیسی 2025 کے تحت معمولی کرائے پر لیز پر دی گئی ہے۔ یہی سہولت تمام سرمایہ کاروں کے لیے دستیاب ہے۔ پروجیکٹ کی مدت پوری ہونے کے بعد زمین دوبارہ حکومت کے قبضے میں واپس آ جائے گی۔ حکومت نے مزید کہا کہ ادانی پاور کو “بھروسہ مند بجلی سپلائی” فراہم کرنے کی مکمل ذمہ داری دی گئی ہے۔
بہار میں نجی سرمایہ کاری کی کمی
ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے پچاس برسوں میں بہار میں بہت کم نجی سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی ہے اور گزشتہ پانچ برسوں میں تو تقریباً کوئی بڑا صنعتی پروجیکٹ شروع نہیں ہوا۔ اس کی بڑی وجہ ناکافی برقی ڈھانچہ اور غیر ترقی یافتہ انفراسٹرکچر بتائی جاتی ہے، جس نے ریاست کو نجی سرمایہ کاروں کے لیے غیر پرکشش بنا دیا۔ نتیجتاً، ریاست کے لاکھوں نوجوان بہتر روزگار کے لیے دوسرے صوبوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔
توانائی اور ترقی کا باہمی تعلق
معاشی ماہرین کے مطابق فی کس بجلی کھپت اور فی کس جی ڈی پی کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ جہاں بجلی کی دستیابی زیادہ ہوتی ہے وہاں صنعتی پیداوار، آمدنی اور روزگار کے مواقع بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ ہاؤسنگ و انفراسٹرکچر ایکسپرٹ وی. سریش کے مطابق ”انفراسٹرکچر میں لگایا گیا ہر ایک کروڑ روپیہ کم از کم 70 مختلف پیشوں میں 200 سے 250 مین-ایئرز کا روزگار پیدا کرتا ہے“۔ اسی حساب سے، مرکزی بجٹ 2023 میں مختص 10 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ملک بھر میں لاکھوں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بہار کی معیشت کے لیے نئی راہیں
بہار کی 13.5 کروڑ آبادی ملک کی کل آبادی کا تقریباً 10 فیصد ہے، مگر ریاست کے محنت کش اب بھی کم اجرت والی ملازمتوں کے لیے بڑے پیمانے پر باہر جا رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، ریاست کی محنت کش آبادی کا صرف 5.7 فیصد مینوفیکچرنگ شعبے میں ہے، جبکہ تقریباً 50 فیصد (49.6%) لوگ زراعت، جنگلات اور ماہی گیری پر انحصار کرتے ہیں۔ بہار اور اتر پردیش دونوں ملک کے سب سے بڑے لیبر سپلائر ریاستیں ہیں، جو مجموعی قومی افرادی قوت میں تقریباً 3.4 کروڑ مزدوروں کا حصہ ڈالتی ہیں۔
صنعتی احیا کی امید
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان کو پلٹنے کے لیے انفراسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ اڈانی گروپ کا 2,400 میگاواٹ بھاگلپور (پیرپینتی) پاور پروجیکٹ اس سمت میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، جس میں 30,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ریاست کی صنعتی بنیاد مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ گروپ پہلے ہی پاور ٹرانسمیشن، سیمنٹ (1600 کروڑ کے وعدہ شدہ سرمایہ)، لاجسٹکس اور ایئرپورٹ آپریشنز جیسے شعبوں میں موجودگی رکھتا ہے، اس لیے اسے ریاست کی مجموعی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے کی پوزیشن حاصل ہے۔
توانائی خود کفالت کی جانب قدم
اڈانی پاور کے حکام کے مطابق بھاگلپور پروجیکٹ مکمل ہونے کے بعد بہار اپنی بجلی کی ضروریات کا بڑا حصہ خود پیدا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔
حکومت کا اندازہ ہے کہ ریاست کی بجلی طلب 2034-35 تک بڑھ کر 17,000 میگاواٹ سے تجاوز کر جائے گی۔ اس وقت بہار اپنی بیشتر بجلی دیگر ریاستوں سے خریدتا ہے، جس پر بھاری مالی بوجھ آتا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے بہار کو طویل مدت کے لیے سستی، مستحکم اور مقامی بجلی دستیاب ہو سکے گی، جو نہ صرف صنعتی ترقی بلکہ شہری اور دیہی علاقوں کی برقی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے گی۔
“بہار کے صنعتی احیا کی شروعات”
پالیسی ماہرین کے مطابق، بھاگلپور پاور پروجیکٹ ریاست کی انرجی سکیورٹی، صنعتی احیا اور ملازمت کے فروغ کی سمت ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ طے شدہ وقت پر مکمل ہوا، تو نہ صرف بہار کی صنعتی تصویر بدلے گی بلکہ پورے مشرقی بھارت میں ایک نیا ترقیاتی مرکز ابھر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
