Bharat Express DD Free Dish

Adani Power

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 48000 کروڑ روپے کی لاگت والا یہ منصوبہ آسام میں اب تک کی سب سے بڑی صنعتی سرمایہ کاری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے دھوبری جیسے نسبتاً پسماندہ ضلع کی سماجی اور اقتصادی ترقی پر بھی نمایاں اثر پڑے گا۔ہیمنت بسوا سرما نے کہا، یہ 3200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔ سالاکاٹی میں 800 میگاواٹ کا تھرمل پاور پروجیکٹ موجود ہے۔

جیت اڈانی نے کہا، ’’اگرچہ وہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیں، لیکن کئی بار ان کے کام کرنے کے انداز کو دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ وہ آسام کے سی ای او ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہر منصوبے کی پیش رفت، مقررہ وقت اور عمل درآمد پر نظر رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہی امتزاج آسام کی ترقی کو نئی رفتار دے رہا ہے۔

اڈانی پاور لمیٹڈ (APL) نے پیر کو کہا کہ اس کی ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) کارکردگی میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ کمپنی کا ای ایس جی اسکور بڑھ کر 66 ہوگیا ہے، جو گزشتہ جائزے میں 65 تھا۔

ماحولیاتی کارکردگی کے تحت کمپنی نے اندرونِ ملک تھرمل پاور پلانٹس میں پانی کے استعمال کو قانونی حد سے 30.8 فیصد کم رکھتے ہوئے 2.42 مکعب میٹر فی میگاواٹ آور تک محدود رکھا، جبکہ پہلی سہ ماہی میں راکھ (Ash) کے استعمال کی شرح 93 فیصد رہی۔برانڈ فنانس کی 2026 کی درجہ بندی میں اڈانی پاور کو بھارت کا سب سے قیمتی انرجی برانڈ قرار دیا گیا۔

اڈانی گروپ کی برانڈ ویلیو 31.3 فیصد اضافے کے ساتھ 8.48 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ برانڈ فنانس انڈیا 100 رپورٹ 2026 میں اڈانی گروپ آٹھویں نمبر پر، اڈانی گرین انرجی اور اڈانی انرجی سلوشنز بھی ٹاپ فائیو انرجی برانڈز میں شامل ہیں۔

گوتم اڈانی نے کہا کہ اب گروپ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ سرمایہ حاصل کرنا نہیں بلکہ منصوبوں کو اتنی تیزی سے مکمل کرنا ہے کہ وہ بھارت کی بڑھتی ہوئی توانائی اور انفراسٹرکچر ضروریات کو پورا کر سکے۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق اڈانی گروپ کی کمپنیوں میں تیزی کی بنیادی وجہ مسلسل مضبوط آمدنی، سرمایہ کاروں کے بہتر ہوتے جذبات اور عالمی بروکریج فرم برنسٹین کی جانب سے گروپ کی کارکردگی اور ترقی کے امکانات پر مثبت رپورٹ ہے۔

اڈانی پورٹس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ملک کے اندرونی علاقوں میں لاجسٹکس آپریشنز کو مضبوط بنانے اور پورے شمالی بھارت میں اپنی خدمات کو وسعت دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔کمپنی نے کہا کہ یہ حصول اس کے طویل مدتی منصوبے کو بھی تقویت دے گا،

ڈاکٹر کرس سنگھ نے بھارت کی طویل مدتی توانائی ضروریات اور صنعتی توسیع کے لیے نیوکلیئر انرجی کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جیسے شمسی اور ہوائی توانائی، ملک کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا نہیں کر سکتے۔

س منصوبے میں اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ ریزولوشن اپلیکنٹ ہے، جبکہ اڈانی پاور ان معاہدوں کو نافذ کرنے والی اہم کمپنیوں میں شامل ہے۔اڈانی پاور پہلے ہی جے پرکاش گروپ کے ریزولوشن عمل میں دلچسپی ظاہر کر چکی تھی اور اب تازہ معاہدوں کے ذریعے اس حصولی عمل کو باضابطہ شکل دے دی گئی ہے