Bharat Express DD Free Dish

Adani Power

اڈانی پورٹس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ملک کے اندرونی علاقوں میں لاجسٹکس آپریشنز کو مضبوط بنانے اور پورے شمالی بھارت میں اپنی خدمات کو وسعت دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔کمپنی نے کہا کہ یہ حصول اس کے طویل مدتی منصوبے کو بھی تقویت دے گا،

ڈاکٹر کرس سنگھ نے بھارت کی طویل مدتی توانائی ضروریات اور صنعتی توسیع کے لیے نیوکلیئر انرجی کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جیسے شمسی اور ہوائی توانائی، ملک کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا نہیں کر سکتے۔

س منصوبے میں اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ ریزولوشن اپلیکنٹ ہے، جبکہ اڈانی پاور ان معاہدوں کو نافذ کرنے والی اہم کمپنیوں میں شامل ہے۔اڈانی پاور پہلے ہی جے پرکاش گروپ کے ریزولوشن عمل میں دلچسپی ظاہر کر چکی تھی اور اب تازہ معاہدوں کے ذریعے اس حصولی عمل کو باضابطہ شکل دے دی گئی ہے

سی آئی آئی سمٹ 2026 میں گوتم اڈانی نے بھارت کی ترقی کے حوالے سے ایک نیا اور جرات مندانہ وژن پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت، امریکہ یا چین کی نقل کرنے کے بجائے اپنی گھریلو طلب اور وسائل کی بنیاد پر آگے بڑھے گا۔

چوتھی سہ ماہی کے دوران کمپنی کی بجلی فروخت 27.2 بلین یونٹس رہی، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 26.4 بلین یونٹس کے مقابلے میں معمولی زیادہ ہے۔ پورے مالی سال 2025-26 کے دوران کمپنی کا خالص منافع 12,971 کروڑ روپے رہا، جو گزشتہ سال کے 12,750 کروڑ روپے کے مقابلے میں معمولی اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ 

اڈانی پاور نے اپنے بیان میں کہا کہ راوت بھاٹا راج ایٹامک انرجی لمیٹڈ کو 5 لاکھ روپے کی مجاز سرمایہ کے ساتھ قائم کیا گیا ہے، جسے 10 روپے فی شیئر کے حساب سے 50 ہزار ایکویٹی شیئرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

سی سی آئی نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ کمیشن نے کہا کہ درخواست گزار کوئی ایسا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ،جس سے ثابت ہو کہ ایزور پاور نے پراکسی بولی دہندہ کے طور پر کام کیا یا بولی کے عمل میں ہیرا پھیری کی گئی

بھارتی مسابقتی کمیشن (CCI) نے اڈانی گروپ کے خلاف دائر ایک معاملہ بند کر دیا ہے۔ یہ کیس بجلی کی پیداوار کے بازار میں مبینہ ‘غلبے’ سے متعلق تھا۔

کمپنی نے ماحولیاتی شعبے میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 75.6 کا اسکور حاصل کیا، جو کہ انڈسٹری کے اوسط 50.2 سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ بہتری بنیادی طور پر کاربن اخراج میں کمی، توانائی کے بہتر استعمال اور جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔

ملک کی سب سے بڑی نجی توانائی پیدا کرنے والی کمپنی، اڈانی پاور لمیٹڈ (اے پی ایل) نے اتوار کو اعلان کیا کہ اسے مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ (ایم ایس ای ڈی سی ایل) سے 1,600 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کے لیے لیٹر آف ایوارڈ (ایل او اے) ملا ہے۔