Bharat Express DD Free Dish

JIH Urges India World to Halt Gaza Catastrophe: غزہ میں جاری نسل کشی کی سخت مذمت، جماعت اسلامی کی حکومت ہند اورعالمی طاقتوں سے بڑی اپیل

جماعت اسلامی ہند کے امیر نے عالمی برادری سے فیصلہ کن اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی نظام کے لیے ایک سخت آزمائش کا وقت ہے۔ ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل سے فوجی اور معاشی تعلقات ختم کریں۔ بنجامن نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ کی پاسداری کریں اوراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے ناجائز قبضے کے خاتمے کی قرارداد کی حمایت کریں۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی۔ (فائل فوٹو)

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے غزہ میں جاری نسل کشی اورانسانی بحران پراپنی شدید مذمت کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے حکومت ہند سمیت عالمی طاقتوں اوردنیا بھرکے باضمیرشہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ میں ہونے والے مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اوراسرائیل کے مسلسل حملوں کوفوری طورپرروکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ غزہ میں 21 لاکھ سے زائد فلسطینی جن میں 11 لاکھ سے زائد بچے شامل ہیں، مسلسل محاصرے اورشدید بمباری کی زد میں ہیں۔ 18 مارچ 2025 کوجنگ بندی کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے اپنی فوجی جارحیت کو مزید تیزکردیا ہے اوربنیادی ضروریات اورامداد پرمکمل پابندی عائد کررکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔ ان کے گھر تباہ ہوچکے ہیں اوران کی آوازیں خاموش کردی گئی ہیں۔ غزہ کی صورتحال انتہائی نازک ہے اورفوری توجہ کی مستحق ہے۔ اسرائیلی حکومت غزہ کے عوام کو مکمل طور پرختم کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔ اب یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس المیے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

غزہ میں 6 لاکھ 60 ہزار بچے اسکولوں سے محروم

سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق غزہ کے 90 فیصد طبی مراکزتباہ یا ناکارہ ہوچکے ہیں۔ پورے غزہ میں صرف چند غذائی مراکزکام کررہے ہیں جبکہ ہزاروں ٹن خوراک اوردوائیں کئی مہینوں سے سرحدی راستوں پررکی ہوئی ہیں۔ صفائی، پینے کے صاف پانی اورطبی سہولیات کی تباہی کے باعث اسہال، ہیپاٹائٹس اے اورسانس کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ یونیسیف کے مطابق 6 لاکھ 60 ہزار بچے اسکولوں سے محروم ہیں اور 17 ہزار سے زائد بچے یتیم یا اکیلے رہ گئے ہیں۔ اگر غزہ کا محاصرہ ختم نہ ہوا تو ستمبر 2025 تک مکمل قحط پڑنے کا خطرہ ہے۔

نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی سے کارروائی کا مطالبہ

 جماعت اسلامی ہند کے امیرنے عالمی برادری سے فیصلہ کن اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی نظام کے لیے ایک سخت آزمائش کا وقت ہے۔ ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل سے فوجی اورمعاشی تعلقات ختم کریں۔ بنجامن نیتن یاہوکے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ کی پاسداری کریں اوراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے ناجائزقبضے کے خاتمے کی قرارداد کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے تعلق سے امیراورطاقتور ممالک بالخصوص امریکہ کی دوہری پالیسی کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ امریکہ اوراس کے اتحادی ممالک کورسمی بیانات سے آگے بڑھ کرامن اورانصاف کے بنیادی اصولوں پرعمل کرنا چاہئے، جن کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔

جماعت اسلامی نے مرکزی حکومت سے کی بڑی اپیل

سید سعادت اللہ حسینی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا تاریخی اور اخلاقی فریضہ ادا کرے۔ بھارت نے ہمیشہ فلسطین کے جائز موقف کی حمایت کی ہے۔ اس نازک وقت میں ہماری آوازپہلے سے زیادہ بلند اور واضح ہونی چاہیے۔ حکومت کو اسرائیلی مظالم کی کھل کر مذمت کرنی چاہیے، اس کے ساتھ تمام عسکری اوراسٹریٹجک تعلقات معطل کرنے چاہئیں اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بین الاقوامی اقدامات کی پرزور حمایت کرنی چاہیے۔ ہماری آواز سیاسی مصلحتوں کے بجائے آئینی اقداراورتہذیبی ورثے سے رہنمائی حاصل کرے۔ نسل کشی کے وقت غیرجانبدارانہ سفارتکاری کی پالیسی انسانی قدروں کونظراندازکرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے آخرمیں ملک کے عوام سے پرامن مزاحمت میں فعال شرکت کی اپیل کی۔ یہ بھی کہا کہ ہم اپنے تمام ہم وطنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی آواز بلند کریں۔ اسرائیلی مصنوعات اوراس نسل کشی میں شریک کمپنیوں کا بائیکاٹ کریں اورفلسطینی مزاحمت کے خلاف پھیلائی جا رہی گمراہ کن معلومات کا مؤثرجواب دیں۔ ہمیں ہرفورم ، سوشل میڈیا، عوامی اجتماعات اورذاتی روابط کا استعمال کرتے ہوئے غزہ کی حقیقت دنیا کے سامنے رکھنی چاہئے اورمظلوموں کے ساتھ کھل کرکھڑے ہونا چاہئے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read