Bharat Express DD Free Dish

Gaza-Israel Ceasefire Update: غزہ-اسرائیل جنگ بندی  کے لئے خفیہ میٹنگ، ایک یا دوہفتے میں ہو سکتا ہے اعلان، سینئراسرائیلی عہدیدارنے کردیا اعلان

صدرڈونالڈ ٹرمپ نے ان خبروں پر بھی تبصرہ کیا جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی، اسرائیلی اور قطری حکام کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ایک خفیہ ملاقات ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل اہمیت معاہدے کے حصول کی ہے، اور وہ معاہدہ قریب ہے۔

غزہ امن سربراہی اجلاس آج مصر میں منعقد ہوگا، جس میں ڈونالڈ ٹرمپ بھی شامل ہوں گے۔

ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدے دار کا کہنا ہے کہ اسرائیل اورحماس ایک یا دو ہفتوں کے اندر غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر مبنی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، تاہم ان کے مطابق یہ توقع نہیں کہ ایسا معاہدہ صرف ایک دن میں طے پا جائے گا۔ یہ بات وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دورہ واشنگٹن کے دوران کہی گئی۔ عہدے دار نے آج جمعرات کے روزبتایا کہ اگردونوں فریق 60 دن کی جنگ بندی کے مجوزہ منصوبے پرمتفق ہوگئے تواسرائیل اس دوران ایک مستقل جنگ بندی کی تجویزپیش کرے گا، جس کی شرط یہ ہو گی کہ حماس اپنے ہتھیار ڈال دے۔ تاہم اگرحماس نے اس سے انکارکیا تو”اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا”۔ مذکورہ عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔

جنگ بندی کے حوالے سے خفیہ ملاقات کی تصدیق

دوسری جانب، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی تازہ ترین گفتگومیں ایک بارپھراس بات کا اعادہ کیا کہ غزہ میں معاہدے کا موقع موجود ہے۔ یا تواسی ہفتے یا اگلے ہفتے کے دوران۔ صدرڈونالڈ ٹرمپ نے ان خبروں پر بھی تبصرہ کیا جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی، اسرائیلی اور قطری حکام کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ایک خفیہ ملاقات ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل اہمیت معاہدے کے حصول کی ہے، اور وہ معاہدہ قریب ہے۔ اسی تناظرمیں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے”فوکس نیوز” کو دیئے گئے انٹرویومیں کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے امکانات روشن ہیں اوراب یہ معاہدہ قریب ترہوچکا ہے۔ انھوں نے وضاحت کی کہ یہ مجوزہ معاہدہ دو ماہ کے لیے ہو گا۔ اسی انٹرویو میں انھوں نے الزام لگایا کہ حماس ہی غزہ کے عوام کو بھوکا مارنے کی ذمے دار ہے، اور اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے وہ اپنے دفاع کے تحت ہے۔

جنگ بندی کے لئے مذاکرات جاری ہونے کا دعویٰ

اس سے قبل بدھ کے روز نیتن یاہو نے کہا تھا کہ انھوں نے صدرڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بات کی، جبکہ اسرائیل اس وقت بھی غزہ پربم باری جاری رکھے ہوئے ہے، باوجود اس کے کہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ یہ نیتن یاہوکا صدرڈونالڈ ٹرمپ کے دوسری باراقتدارسنبھالنے (20 جنوری) کے بعد امریکہ کا تیسرا دورہ ہے۔ انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ انھیں نہیں لگتا کہ اسرائیلی کارروائی ختم ہو چکی ہے، تاہم مذاکرات کار سنجیدگی سے جنگ بندی کے حصول کے لیے کام کررہے ہیں۔

ڈونالڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہوئی ملاقات

منگل کے روزصدرڈونالڈ ٹرمپ اورنیتن یاہوکی دودن میں دوسری ملاقات ہوئی، جس میں غزہ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدرٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایلچی اسٹیوویٹکوف نے کہا ہے کہ اسرائیل اورحماس جنگ بندی کے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے کہ جب جنگ کو شروع ہوئے 21 ماہ ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق فریقین کے درمیان اختلافی نکات کی تعداد چارسے کم ہوکرایک رہ گئی ہے اوروہ پرامید ہیں کہ آئندہ ہفتے کے آغازتک ایک عبوری جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جائے گا۔ امریکی ایلچی نے صحافیوں کوبتایا کہ متوقع معاہدے میں 60 دن کی جنگ بندی شامل ہوگی، اس کے علاوہ 10 زندہ یرغمالیوں کی رہائی اور 9 ہلاک شدگان کی باقیات کی واپسی بھی اس میں شامل ہوگی۔

اکتوبر 2023 سے جاری ہے تنازعہ

یہ تنازعہ اکتوبر 2023 میں اس وقت شروع ہوا جب حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اندازہ ہے کہ تقریباً 50 افراد اب بھی غزہ میں قید ہیں، جن میں سے 20 کے زندہ ہونے کا گمان ہے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ پرکی گئی جنگی کارروائیوں میں اب تک وزارت صحت کے مطابق 57 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ غزہ کے وسیع علاقے تباہ ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کی اکثریتی آبادی بے گھرہوچکی ہے، اورماہرین کا کہنا ہے کہ مئی میں تقریباً پانچ لاکھ افراد قحط کے خطرے سے دوچارتھے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

 



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read